عرب ذرائع ابلاغ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور ابتدائی طور پر ایران کو تین ارب ڈالر جاری کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا کہ مالی رقوم کی فراہمی مرحلہ وار ہونی چاہیے اور ہر مرحلے میں پیش رفت کے ساتھ تین ارب ڈالر کی ادائیگی کو مشروط رکھا جائے، اس شرط پر فریقین کے درمیان تفصیلی بات چیت جاری رہی اور مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی مذاکرات میں خاص توجہ دی جا رہی ہے، عمان کی جانب سے پیش کی گئی ایک نئی تجویز کو بنیاد بنا کر دونوں فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور بحری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
مذاکرات کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز دن کے ابتدائی حصے میں ہی ہو گیا تھا، جن میں فریقین نے اپنے اپنے مؤقف اور تحفظات پیش کیے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود ابتدائی مرحلے کی بات چیت مکمل کرنے کے بعد مزید مشاورت کے لیے اپنے اپنے ممالک واپس جائیں گے تاکہ اپنی حکومتوں سے مشاورت کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
ان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی تعلقات کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، اگر مالیاتی امور اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر پیش رفت برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں مزید مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں، تاہم فی الحال تمام فریقین احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور کسی بھی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔