وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں زرعی شعبے کی بہتری کے لیے آئندہ تین برسوں کے دوران 50 ہزار ٹریکٹرز کسانوں کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقدام کا مقصد کسانوں کو جدید زرعی سہولتیں فراہم کرنا اور انہیں معاشی طور پر مزید مضبوط بنانا ہے۔
لاہور میں محکمہ زراعت کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے زرعی ترقی، کسان کارڈ اور زرعی مشینی نظام سے متعلق مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کسان کارڈ کے ذریعے اب تک 360 ارب روپے کے بلاسود قرضے جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ قرضوں کی وصولی کی شرح 99 فیصد رہی ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ جاری کیے گئے قرضوں کا تقریباً 80 فیصد حصہ کسانوں نے کھاد کی خریداری پر خرچ کیا جبکہ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے کے دوران یوریا کھاد کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ حکومت کسانوں کی فلاح اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق زرعی شعبے کی مضبوطی سے نہ صرف کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ صوبے کی مجموعی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ملاقات کی جس میں صوبے کی مجموعی صورتحال اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ ان کی حکومت کا ہدف پنجاب کے ہر شہری تک ترقیاتی منصوبوں اور ریلیف کے ثمرات پہنچانا ہے۔