کسی بھی کالعدم تنظیم کیساتھ مذاکرات نہیں کرسکتے، طارق فضل چوہدری

کسی بھی کالعدم تنظیم کیساتھ مذاکرات نہیں کرسکتے، طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں فوری طور پر ختم نہیں کی جا سکتیں، کیونکہ ان کے خاتمے کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کی ہے اور حکومت آج بھی بات چیت کو ہر مسئلے کا بہترین حل سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کالعدم ہونے کے بعد حکومت کے پاس اس سے براہِ راست مذاکرات کا راستہ موجود نہیں، کیونکہ کسی بھی کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان کو ثالثی کے لیے ایکشن کمیٹی نے خود رابطہ کیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :  فیول ریلیف پروگرام کے تحت 2 ہزار روپے کی ادائیگی شروع ہوگئی، ابھی چیک کریں 

وفاقی وزیر نے بتایا کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کے معاملے پر حکومت کی جانب سے چار مختلف آپشنز پیش کیے گئے، تاہم انہیں قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے بعد نئی اسمبلی اگر مناسب سمجھے تو آئینی ترمیم کے ذریعے اس حوالے سے فیصلہ کر سکتی ہے، تاہم فی الحال یہ 12 نشستیں برقرار ہیں اور برقرار رہیں گی۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ حکومت آزاد کشمیر نے فیصلہ کیا ہے کہ پرتشدد ہجوم کو سڑکوں پر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم آزاد کشمیر اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) سے کوئی بات کریں گے تو پارٹی اس پر اپنا مؤقف اور ردعمل دے گی۔

Related Articles