مہاجرین نشستوں بارے میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ، وزیر اعظم آزاد کشمیر

مہاجرین نشستوں بارے میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ، وزیر اعظم آزاد کشمیر

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے مہاجرین کی قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی سے متعلق نجی ٹی وی جیو نیوز کی نشر کردہ خبر کو غلط رپورٹنگ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں کی موجودہ حیثیت میں اصلاح کی ضرورت ہے تاہم کسی بھی صورت مہاجرین کو ان کے آئینی اور جمہوری حقِ نمائندگی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

 وزیر اعظم آزا د کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے  سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ان کے مؤقف کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ مہاجرین کی نمائندگی کے موجودہ فارمولے کو بحال کرنے کے حامی ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ مہاجرین کی نمائندگی ایک آئینی اور تاریخی حقیقت ہے جسے کسی بھی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مہاجرین کو قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کے حق سے محروم کرے۔

 یہ بھی پڑھیں :کالعدم ایکشن کمیٹی کا سرکس بند،شاطروں کا کھیل اب ختم ہوچکا، وزیراعظم فیصل ممتازراٹھور

فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پہلے بھی اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ مہاجرین کی نشستوں کی موجودہ تقسیم اور طریقہ کار پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ نمائندگی کا نظام مزید مؤثر، منصفانہ اور عوامی امنگوں کے مطابق بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ وہ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کے حق میں ہیں ، انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی۔

 

یاد رہے کہ جیو نیوز کی جانب سے یہ خبر نشر کی گئی تھی کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کو جائز مطالبہ قرار دیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں فیصل ممتاز راٹھور نے کہا تھا کہ سیاسی حقوق حاصل کرنے کا بہترین راستہ سیاسی جدوجہد ہے، احتجاج یا ہنگامہ آرائی نہیں، جبکہ مہاجرین کی نشستوں کی موجودہ حیثیت ناقابل قبول ہے۔ اس خبر کے نشر ہونے کے بعد مختلف سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی اور مہاجرین کی نمائندگی کے مستقبل سے متعلق کئی سوالات اٹھائے گئے، جس پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ان کے مؤقف کو درست انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔

editor

Related Articles