مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی ریاستی دہشتگردی کی داستانیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، لیکن ’سانحہ مچھیل‘ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی اور سیاسی شعور کا ایک ایسا لازوال باب ہے جس نے بھارتی جمہوریت کے مہیب چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔
آج سے 16 سال قبل 30 اپریل 2010 کو مچھیل سیکٹر میں 3 بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو بھارتی قابض فورسز نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ماورائے عدالت قتل کر دیا تھا۔
مچھیل واقعہ کیا تھا؟
شہزاد خان، محمد شفیع اور ریاض لون نامی تینوں کشمیری نوجوانوں کو روزگار کا جھانسہ دے کر مچھیل کے سرحدی علاقے میں لے جایا گیا، جہاں قابض افواج نے انہیں ایک جعلی مقابلے (فیک انکاؤنٹر) میں شہید کر دیا۔
بھارتی فوج نے ان معصوم نوجوانوں کو غیر ملکی درانداز قرار دے کر اسے اپنی ’کامیاب کارروائی‘ کے طور پر پیش کیا اور تمغے سمیٹنے کی کوشش کی۔
تاہم جب ان نوجوانوں کی شناخت مقامی شہریوں کے طور پر ہوئی تو پوری وادی میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی، جس نے عالمی توجہ حاصل کی اور بالآخر بھارتی حکام کو تحقیقات پر مجبور کر دیا۔
مچھیل سے شروع ہونے والی تحریکِ انتفاضہ
سانحہ مچھیل محض ایک واقعہ نہیں تھا بلکہ اس نے مقبوضہ کشمیر کی حالیہ تاریخ کا رخ موڑ دیا تھاکہ ان شہادتوں کے بعد مقبوضہ وادی میں کئی ماہ تک طویل ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے جاری رہے، جس میں بھارتی فورسز کی فائرنگ سے مزید 100 سے زیادہ نوجوان شہید ہوئے تھے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو حاصل سیاہ قوانین (افسپا) کے تحت انہیں یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ کسی کو بھی شک کی بنیاد پر قتل کر سکتے ہیں۔ مچھیل جیسے واقعات پاتھری بل اور شوپیاں میں بھی دہرائے جا چکے ہیں۔
بھارتی فوج کے نچلے درجے کے افسران اکثر ترقی اور مالی انعامات کے حصول کے لیے معصوم شہریوں کو ’دہشتگرد‘ قرار دے کر جعلی مقابلوں میں قتل کر دیتے ہیں۔
مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال
سانحہ مچھیل کے 16 سال بعد بھی مقبوضہ کشمیر میں صورتحال میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی، بلکہ 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد بھارتی مظالم میں مزید تیزی آئی ہے۔
مقبوضہ وادی میں آج بھی فیک انکاؤنٹرز اور جبری گمشدگیاں روز کا معمول ہیں۔ نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر غائب کر دینا اور بعد میں انہیں نام نہاد مقابلوں میں شہید دکھانا بھارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں نے کشمیریوں کے دلوں میں آزادی کی تڑپ کو مزید تقویت دی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیریوں کی اپنی منزل یعنی پاکستان سے وابستگی مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔
مچھیل جیسے درجنوں واقعات کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی بھارتی استبداد کو حوصلہ فراہم کر رہی ہے۔ کشمیری اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ ان کی سیاسی بقا صرف اور صرف مکمل آزادی میں ہی مضمر ہے۔