خواتین کے بیس اوورز کے عالمی کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو چالیس رنز سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی۔ اب فائنل میں اس کا مقابلہ روایتی حریف آسٹریلیا سے ہوگا، جس سے ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
دی اوول کے میدان میں کھیلے گئے اس اہم میچ میں انگلینڈ کی ٹیم کو ابتدا میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور صرف تیئس رنز کے مجموعی اسکور پر اس کی تین وکٹیں گر چکی تھیں جس سے ٹیم دباؤ میں آگئی تھی تاہم اس موقع پر کپتان نیٹ اسکیور برنٹ نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ انداز اپناتے ہوئے ٹیم کو سہارا دیا۔
نیٹ اسکیور برنٹ نے چھیالیس گیندوں پر پچہتر رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکال کر ایک مضبوط پوزیشن میں پہنچایا۔ ان کا ساتھ تجربہ کار کھلاڑی ہیذر نائٹ نے دیا جنہوں نے سینتالیس گیندوں پر اٹھاون رنز اسکور کیے۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان چوتھی وکٹ کے لیے ایک سو تینتیس رنز کی شاندار شراکت قائم ہوئی جس نے میچ کا رخ مکمل طور پر انگلینڈ کی طرف موڑ دیا۔انگلینڈ نے مقررہ اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر ایک سو انہتر رنز بنائے ۔
ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار رہی۔ انگلینڈ کے باؤلرز نے نپی تلی اور منظم بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخالف بیٹنگ لائن کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔ سوفی ایکلسٹن نے نہ صرف اہم وکٹ حاصل کی بلکہ دو شاندار کیچز بھی پکڑے، جبکہ لارین بیل اور چارلی ڈین نے دو دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
لینزی اسمتھ اور فریا کیمپ نے بھی ایک ایک وکٹ حاصل کی جبکہ ڈینی وائٹ ہاٹ کے شاندار براہ راست تھرو نے ایک اہم رن آؤٹ کر کے جنوبی افریقی ٹیم کی امیدوں کو مزید کمزور کر دیا۔
جنوبی افریقہ کی ٹیم مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم انگلینڈ کی مضبوط فیلڈنگ اور دباؤ بھرے بولنگ اٹیک کے سامنے بے بس نظر آئی۔
اس فتح کے ساتھ انگلینڈ نے نہ صرف فائنل میں جگہ بنائی بلکہ دو ہزار سترہ کے بعد ایک بار پھر عالمی ٹائٹل جیتنے کی امیدیں بھی روشن کر دی ہیں۔ اب تمام نظریں فائنل پر مرکوز ہیں جہاں ان کا مقابلہ آسٹریلیا سے ہوگا، جو ویمنز کرکٹ کی دو بڑی حریف ٹیموں کے درمیان ایک تاریخی ٹاکرا ثابت ہوگا۔