میڈونا کے مطابق ابتدائی دو سال فلم کے اسکرپٹ کی تیاری میں صرف ہوئے، جبکہ بعد کے دو برس بجٹ، کاسٹنگ اور پری پروڈکشن کے مختلف مراحل پر کام ہوتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی کی کہانی کو مؤثر انداز میں بڑی اسکرین پر پیش کرنے کے لیے بڑے بجٹ کی ضرورت تھی، لیکن پروڈکشن کمپنی منصوبے کے حجم اور اخراجات کے حوالے سے مکمل طور پر مطمئن نہیں تھی۔
پاپ اسٹار نے بتایا کہ اخراجات کم کرنے کے لیے فلم کی شوٹنگ سربیا میں کرنے کی تجویز بھی دی گئی، تاہم اسٹوڈیو نے اس آپشن پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ انہیں محسوس ہونے لگا کہ اسٹوڈیو ان کے تخلیقی وژن پر مکمل یقین نہیں رکھتا، جس سے منصوبے کو آگے بڑھانا مزید مشکل ہوگیا۔
میڈونا نے مزید انکشاف کیا کہ یونیورسل پکچرز کے ساتھ معاہدہ ختم ہونے کے بعد نیٹ فلکس نے اس کہانی کو فلم کے بجائے سیریز کی شکل میں پیش کرنے میں دلچسپی ظاہر کی، لیکن وہاں بھی قانونی اور مالی پیچیدگیاں آڑے آ گئیں۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسل پکچرز کے ساتھ تیار کیے گئے اسکرپٹ کے حقوق دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بھاری رقم درکار تھی، جس کی وجہ سے منصوبے کو نئے سرے سے ترتیب دینا پڑا۔
میڈونا کے مطابق نئی سیریز کے لیے موزوں شو رنر کی تلاش کئی ماہ تک جاری رہی، تاہم کوئی حتمی پیش رفت نہ ہوسکی اور منصوبہ عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی رک گیا۔
واضح رہے کہ میڈونا کی بائیوپک کا اعلان 2021 میں کیا گیا تھا، جسے یونیورسل پکچرز نے حاصل کیا تھا۔ اس منصوبے میں میڈونا بطور شریک مصنفہ اور ہدایت کار شامل تھیں، جبکہ 2022 میں ان کے کردار کے لیے اداکارہ جولیا گارنر کا انتخاب بھی کیا گیا تھا۔ تاہم تمام تر تیاریوں کے باوجود یہ منصوبہ تاحال حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا۔