حافظ سعد رضوی کو کندھے پر گولی لگنے سے متعلق خبریں جعلی ہیں

حافظ سعد رضوی  کو کندھے پر گولی لگنے سے متعلق خبریں جعلی ہیں

تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی احتجاج کے دوران کنٹینر سے گر کر معمولی زخمی ہوئے ہیں تاہم سوشل میڈیا پر سعد رضوی کو کندھے پر گولی لگنے سے متعلق جعلی اطلاعات پھیلائی جارہی ہیں ۔

سوشل میڈیا کے مطابق حافظ سعد حسین رضوی کو کندھے میں گولی لگی ہے جبکہ مختلف کاروائیوں میں زخمی ہونے والے تحریک لبیک پاکستان کے متعدد کارکنان کی حالت تشویش ناک ہے۔ تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ذرائع کے مطابق حافظ سعد رضوی کنٹینر سے گر کر معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

13 اکتوبر 2025 کو مریدکے میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں نے مشتعل ہو کر سڑک پر کھڑی گاڑیوں کو آگ لگا دی ،گاڑیاں کھڑی دیکھی جا سکتی ہیں۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر بعض صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا کہ آنسو گیس کی وجہ سے ٹی ایل پی کے امیر سعد رضوی بے ہوش ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: مذہبی جماعت نے پولیس اہلکار کیسے اغوا کیے اور گاڑیاں، سرکاری اسلحہ چھینا؟

دوسری جانب لاہور مرید کے میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاج اور لانگ مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں ایس ایچ او فیکٹری ایریا، شہزاد جاں بحق ہو گئے جبکہ 17 پولیس اہلکار اور رینجرز کے 4 جوان زخمی ہوئے ہیں۔

مریدکے تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جھڑپوں میں ٹی ایل پی کے کم از کم 6 کارکن جاں بحق جبکہ 35 سے 49 کے درمیان کارکن زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ شدید زخمیوں کو لاہور منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس کو دھمکیاں دینے کامعاملہ ،ٹی ایل پی کےنائب امیر گرفتار

پنجاب کے مطابق پولیس اور رینجرز نے مشترکہ طور پر راستوں کو کلیئر کرنے کی کوشش کی اس دوران جی ٹی روڈ، جو کئی گھنٹوں سے بلاک تھا، مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے اور ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ فورسز کی بھاری نفری علاقے میں موجود ہے اور صورت حال کو مکمل کنٹرول میں قرار دیا جا رہا ہے۔

پنجاب پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک اور بہادر جوان فرض کی راہ پر قربان ہو گیا ہے، ایس ایچ او فیکٹری ایریا شیخوپورہ شہزاد نواز نے امن و امان کے قیام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے دوران ملک کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔

بیان کے مطابق مسلح جتھوں کی فائرنگ سے ایس ایچ او فیکٹری ایریا شہزاد نواز فرض پر قربان ہو گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے شہزاد نواز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ ’مسلح جتھوں کو امن و امان میں خلل کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔ شہید کے خاندان کی فلاح و بہبود کا ہر ممکن خیال رکھا جائے گا‘۔

ذرائع کے مطابق، جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب ٹی ایل پی کے کارکنوں نے حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے لانگ مارچ کا آغاز کیا اور مریدکے کے مقام پر پولیس کی جانب سے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی۔ دونوں جانب سے پتھراؤ، آنسو گیس کا استعمال کیا گیا ہے، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *