ملک جہاں بیرونی خطرات سے نبردآزما ہے ایسے موقع پر مذہبی جماعت ٹی ایل پی کا انتشاری احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے ،احتجاج کے دوران مشتعل کارکنوں نے پولیس اہلکاروں پر دھاوا بول دیااورسرکاری گاڑیاں اور اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک برسوں سے انتشاری احتجاجی مظاہروں کے دوران مختلف مقامات پر پولیس سے اسلحہ چھینتے رہے ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ عناصر اب تک تقریباً 400 پولیس اہلکاروں کی بندوقیں لے جا چکے ہیں، اور وہ یہی اسلحہ بعد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
حالیہ چند دنوں کے احتجاج میں بھی انہوں نے 4 پولیس کی گشت کرنے والی گاڑیاں اغوا کی ہیں، جن کے ساتھ پولیس اہلکاروں اور ان کے ہتھیار بھی لے لیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے انتشاری عناصر کے خلاف نہ صرف عوام کو خبردار رہنا چاہیے بلکہ ریاست کو بھی سختی سے نمٹنا چاہیے، ورنہ قانون کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے انتشاری پہلے پولیس سے ان کے ہتھیار چھین لیتے ہیں، ان کی گاڑیاں اور اہلکاروں کو اغوا کر لیتے ہیں پھر جب کبھی فائرنگ کا موقع آتا ہے تو یہی چھینے ہوئے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اندر سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر گولیاں چلاتے ہیں۔
اس دوران اردگرد کے شہری بھی نشانہ بنتے ہیں اور اپنے ہی لوگوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے ، بعد میں جب پوسٹ مارٹم رپورٹ آتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ استعمال شدہ گولیاں اور اسلحہ پولیس کا ہی ثابت ہوتا ہے ، یہ ان کی ایک حکمت عملی ہے جس سے عوام کو باخبررہنے کی ضرورت ہے۔
ایسے واقعات اور فسادی احتجاج کی آڑ میں عوام ہی مشکل کا زیادہ شکار ہوتی ہے جوکہ بالکل مناسب نہیں ، اس حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کی بھی راے اہم نظر آتی ہے جو کافی عرصے سے ان کے حربے دیکھتے آرہے ہیں اور اب سمجھنے پر مجبور ہیں کہ یہ احتجاج درحقیقت کسی طرح بھی عوامی مفاد میں نہیں ۔
یہ چھ لبیکی شرپسند نارووال میں ریلوے ٹریک پر پتھر پھینک کر بڑی مصیبت کو دعوت دے رہے ہیں، خدانخواستہ اگر بڑا حادثہ ہوگیا تو کون زمہ دار ہوگا ،ایک ٹرین سینکڑوں مسافر موجود ہوتے ہیں .. انکی شکلیں بھی واضح ہیں pic.twitter.com/rRkSguI7do
— Ather Salem® (@Atharsaleem01) October 13, 2025
غزہ میں امن قائم ہوا، مگر پاکستان میں TLP کے انتشاریوں نے جنگ چھیڑ دی۔
پتھر، پیٹرول بم، فائرنگ 1 پولیس شہید، درجنوں اہلکار زخمی۔
یہ “غزہ مارچ” نہیں، ملک دشمنی تھی۔
ریاست کو اب فیصلہ کن کارروائی کرنا ہوگی تاکہ یہ فتنہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو۔ pic.twitter.com/U5RwvReBrw— Iqra Rajpoot (@Iqrarajpoot01) October 13, 2025

