چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی بہت کمزور ہے اور اس کی بقا کو سنجیدہ خطرات لاحق ہیں، اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری اور مؤثر کردار ادا کرے تاکہ اس نازک صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکے۔
چینی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ جنگ بندی اگرچہ ایک اہم پیش رفت ہے لیکن یہ اتنی مضبوط نہیں کہ اس پر مکمل اعتماد کیا جا سکے۔ ان کے مطابق کسی بھی ایسے اقدام کی سختی سے مخالفت ضروری ہے جو اس جنگ بندی کو کمزور کرے یا خطے میں دوبارہ کشیدگی اور تنازع کو جنم دے۔
وانگ یی نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ انتہائی مشکل اور طویل کوششوں کے بعد حاصل ہونے والی یہ جنگ بندی برقرار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فریقین یا عالمی طاقتوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو صورتحال دوبارہ تیزی سے بگڑ سکتی ہے جس کے سنگین نتائج نکل ہو سکتے ہیںانہوں نے مزید کہا کہ چین تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ تمام فریق بات چیت اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔ ان کے مطابق طاقت کے استعمال یا دباؤ کی پالیسی خطے میں استحکام پیدا کرنے کے بجائے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ دنیا کو اس وقت استحکام اور تحمل کی ضرورت ہے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ضروری ہے۔چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کے کردار کی بھی تعریف کی اور کہا کہ چین تنازعات کے حل میں پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس عمل میں بھرپور تعاون کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں اور تمام فریقین کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔