پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بدھ کی علی الصبح، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے اسپین بولدک میں افغان طالبان کی جانب سے ہونے والے بیک وقت 4 مقامات پر حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغانستان کی جانب سے یہ حملے ان دیہی علاقوں سے کیے گئے جو پاک افغان سرحد پر واقع ہیں اور جنہیں قبائل کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔ حملہ آوروں نے عام شہریوں کی سلامتی کو یکسر نظر انداز کیا۔ افغان طالبان نے اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاک افغان ’دوستی گیٹ‘ کو بھی اپنے جانب سے تباہ کر دیا، جو باہمی تجارت اور قبائلی رعایتی حقوق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائی میں 15 سے 20 طالبان جنگجو مارے گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ بیان کے مطابق علاقے کی صورتحال اب بھی مکمل طور پر قابو میں نہیں آئی اور اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان اور فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد گروپ حملوں کی مزید تیاری کر رہے ہیں۔
بیان کے مطابق یہ حملہ ایک الگ واقعہ نہیں تھا، 14 اور 15 اکتوبر کی درمیانی شب، افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نے خیبرپختونخوا کے کرم سیکٹر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی۔ تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے حملہ پسپا کر دیا۔ کارروائی کے دوران 8 افغان پوسٹس تباہ کی گئیں جن میں 6 ٹینک بھی شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق 25 سے 30 کے درمیان دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان پر حملے کے آغاز کا الزام بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی پوسٹس یا ساز و سامان کے قبضے کے دعوے بھی جھوٹ پر مبنی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
‘افواج پاکستان ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار اور پرعزم ہیں’، ایک سرکاری بیان میں کہا گیا۔ ‘پاکستان پر کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا‘۔
یہ واقعات پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں پاکستان مسلسل اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دہشتگردوں کی دراندازی کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔