دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی، افغان طالبان نے سرحد پر واقع ’دوستی گیٹ‘ کو دھماکے سے تباہ کردیا

دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی، افغان طالبان نے سرحد پر واقع ’دوستی گیٹ‘ کو دھماکے سے تباہ کردیا

پاک افغان سرحد پر واقع اہم تجارتی و سیکیورٹی راستہ ’دوستی گیٹ‘ کو افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ایک شدید دھماکے میں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ سرحدی کشیدگی میں خطرناک اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثر پڑے گا بلکہ سمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت میں دوبارہ اضافہ کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

واقعے کی تفصیلات

مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان ’دوستی گیٹ‘ پر رات کے وقت شدید دھماکہ کیا جس سے گیٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ دھماکے کے بعد کے مناظر میں گیٹ کے ملبے اور اردگرد کے علاقے میں تباہی کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کا پاکستان پر ’ایلبروس‘ بیلسٹک میزائل‘ حملوں کا انکشاف، ویڈیو وائرل

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ افغانستان کی حدود سے کیا گیا اور اس کا نشانہ واضح طور پر وہ گیٹ تھا جسے سرحدی نظم و ضبط اور تجارت کے لیے بنایا گیا تھا۔

دوستی گیٹ کی اہمیت

دوستی گیٹ نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان علامتی ’امن اور دوستی‘ کا نمائندہ تھا بلکہ عملی طور پر یہ گیٹ اور اس سے منسلک باڑ (فینسنگ) علاقائی سلامتی، سمگلنگ کی روک تھام اور غیر قانونی دراندازی کے خلاف ایک مؤثر دفاعی لائن کا کام کر رہا تھا۔

سرحدی حکام کے مطابق دوستی گیٹ اور فینسنگ کی موجودگی کے بعد منشیات، اسلحہ اور انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم میں واضح کمی آئی تھی۔

طالبان کا ارادہ واضح

گیٹ کی تباہی نے اس موقف کو تقویت دی ہے کہ افغان طالبان سرحد کی باقاعدہ قانونی حیثیت کے خلاف ہیں۔ ماضی میں بھی طالبان نے سرحد پر باڑ لگانے کے خلاف احتجاج کیا تھا اور کئی بار پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ملوث رہے ہیں۔

 سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ’دوستی گیٹ کو دھماکے سے اڑانا صرف ایک سرحدی تنصیبات پر حملہ نہیں، بلکہ یہ افغانستان کی جانب سے سرحدی قوانین اور باہمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے‘۔

سیکیورٹی اقدامات اور ممکنہ ردعمل

واقعے کے بعد پاکستان نے سرحد پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے اور چمن بارڈر پر تجارتی و عوامی آمد و رفت کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ایف سی اور دیگر فورسز کو سرحدی پٹی پر الرٹ کر دیا گیا ہے اور جوابی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

سفارتی سطح پر احتجاج متوقع

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے تاحال باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل میں افغان حکام سے سخت سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔

علاقائی و عالمی سطح پر تشویش

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ پر معاہدوں کو تسلیم نہیں کرتی تو یہ مستقبل میں دونوں ممالک کے لیے سنگین سیکیورٹی اور معاشی چیلنجز پیدا کرے گا۔

مزید پڑھیں:چمن اور زوب بارڈرز پر افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ، پاکستانی فورسز کا بھرپور اور مؤثر جواب، درجنوں ہلاکتیں، تعلیمی ادارے بند

دوستی گیٹ کی تباہی نہ صرف سرحدی نظم و نسق پر کاری ضرب ہے بلکہ یہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ایک نیا بحران بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اگر افغان طالبان اس طرح کی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رکھتے ہیں، تو خطے میں امن و استحکام کے خواب کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت متوقع ہے اور یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ افغان طالبان کو بین الاقوامی سرحدی اصولوں کی پاسداری پر مجبور کیا جائے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *