افغان طالبان کی جارحیت، کاکڑ قبیلے اور بلوچستان عوام کا پاک فوج سے اظہار یکجہتی، بھرپور ساتھ دینے کا عزم

افغان طالبان کی جارحیت، کاکڑ قبیلے اور بلوچستان عوام کا پاک فوج سے اظہار یکجہتی، بھرپور ساتھ دینے کا عزم

افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر بلا اشتعال جارحیت کے خلاف بلوچستان کے عوام اور قبائل نے پاک فوج سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ چمن سے تعلق رکھنے والے کاکڑ قبیلے کے عمائدین نے قومی یکجہتی اور دفاعِ وطن کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاک فوج اور ایف سی کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان جنگ چاہتے ہیں تو پاکستان تیار ہے، وزیرِ دفاع خواجہ آصف

‘یہ مٹی ہماری ماں ہے’، کاکڑ عمائدین

کاکڑ قبیلے کے عمائدین نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘کوئی بھی ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھے، ہم ہر کسی کو جواب دینا جانتے ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم پاک فوج اور ایف سی کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور پاکستان کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں’۔

عمائدین کا کہنا تھا کہ ‘یہ ملک، یہ وطن اور یہ مٹی ہماری ماں جیسی ہے’، اور مطالبہ کیا کہ ‘کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی ہمیں اجازت دیں تاکہ ہم اس جنگ میں شامل ہو سکیں’۔ ان کا کہنا تھا، ‘ہم مکمل طور پر الرٹ اور تیار ہیں، صرف حکمرانوں کے ایک اشارے کے منتظر ہیں’۔

عوامی حمایت اور خراجِ تحسین

بلوچستان کے شہریوں نے بھی افغان طالبان کی حالیہ اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے افغانیوں کی خدمت کی مگر انہوں نے مودی کی گود میں بیٹھ کر ہم پر حملہ کیا’۔

مزید پڑھیں:چمن اور زوب بارڈرز پر افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ، پاکستانی فورسز کا بھرپور اور مؤثر جواب، درجنوں ہلاکتیں، تعلیمی ادارے بند

ایک شہری نے کہا کہ ‘جو بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، اس کی آنکھ نکال دیں گے’، جب کہ ایک اور شہری نے کہا، ‘اللہ تعالیٰ پاک فوج کو مزید طاقت اور ہمت دے، ہم اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں’۔

بھارت کے کردار پر سوالات

شہریوں کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی اس بلاجواز جارحیت کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ ‘بھارت اپنی جنگ ہارنے کے بعد اب افغان طالبان کے ذریعے پاکستان میں بد امنی پھیلانا چاہتا ہے’۔

‘پاکستان نے افغان مہاجرین کی 40 سال مہمان نوازی کی’

شہریوں نے کہا کہ ‘پاکستان نے افغان مہاجرین کی 40 سال تک مہمان نوازی کی، مگر آج انہی افغان طالبان نے شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا’۔ انہوں نے کہا کہ ‘جارحیت سے پہلے افغان طالبان کو پاکستان کے احسانات کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا’۔

مؤثر فوجی جواب پر عوام مطمئن

شہریوں نے افغان طالبان کو مؤثر جواب دینے پر پاک فوج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاک فوج کے بھرپور اور مؤثر ردعمل نے افغان طالبان کے منہ بند کر دیے ہیں’۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘پاکستان کی جانب سے صرف دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ افغانستان کی طرف سے شہری آبادیوں پر حملے کیے گئے’۔

حکومت اور فوج کی بھرپور حمایت

عوام نے حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کو افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل تائید کی ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

بلوچستان کے عوام اور قبائل کے اس مضبوط ردعمل نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی عوام، قبائل، اور سیکیورٹی فورسز ہر قسم کی جارحیت کے خلاف متحد ہیں، اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *