ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں متوقع امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے باعث تمام دفاتر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد کے ریڈ زون میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، اور کل تمام وزارتیں، ڈویژنز اور وفاقی دفاتر بند رہیں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام وفاقی افسران اور عملے کو ورک فرام ہوم کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ سرکاری امور میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔
دوسری جانب، سپریم کورٹ میں کل جزوی طور پر عدالتی عملہ فعال رہے گا۔ رجسٹرار آفس سپریم کورٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس پاکستان کے حکم پر عدالتی عملہ کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا صرف مخصوص عملہ کل عدالت میں ڈیوٹی انجام دے گا، جبکہ دیگر افسران اور اہلکار گھروں سے کام کریں گے اور ٹیلی فون پر اپنے سپروائزرز کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ عدالت میں پیش نہ ہونے والے کسی فریق یا وکیل کے خلاف کوئی منفی حکم جاری نہیں کیا جائے گا۔ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریاں معمول کے مطابق کھلی رہیں گی۔
اسی طرح وفاقی آئینی عدالت نے بھی کل عدالتی کام معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے 22 اپریل کی کاز لسٹ منسوخ کر دی۔ ریڈ زون کی بندش کے باعث اسلام آباد میں عدالتی کارروائی نہیں ہوگی۔ عدالتی عملے کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اور برانچ رجسٹریاں معمول کے مطابق کھلی رہیں گی۔