افغانستان میں دہشتگردوں کیخلاف جوابی کارروائی میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی قیاس آرائیاں غلط ہیں ، عطا تارڑ  

افغانستان میں دہشتگردوں کیخلاف جوابی کارروائی میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی قیاس آرائیاں غلط ہیں ، عطا تارڑ  

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بڑی کارروائی کرتے شمالی و جنوبی وزیرستان میں گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور 100 سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا ، اس دوران عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تمام قیاس آرائیاں غلط ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ پاکستان نے پاک افغان سرحد کے ساتھ شمالی اور جنوبی وزیرستان اضلاع کے سرحدی علاقوں میں خارجی گل بہادر کے تصدیق شدہ کیمپوں کو نشانہ بنایا۔

48 گھنٹے طویل جنگ بندی کے دوران، افغانستان سے سرگرم خارجیوں نے پاکستان کے اندر متعدد دہشت گرد حملے کرنے کی کوشش کی جس کا سیکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے جواب دیا،  سیکیورٹی فورسز کی جانب سے موثر جوابی کارروائی کے دوران 100 سے زائد خارجیوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : پاک فوج اور پاک فضائیہ کی افغانستان میں جوابی کارروائی، گل بہادر گروپ کے ٹھکانے تباہ، اہم کمانڈر سمیت 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک

عطاتارڑ نے مزید لکھا کہ خارجی سابق گل بہادر گروپ نے بھی شمالی وزیرستان میں گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ کیا جس میں ایک فوجی نے جام شہادت نوش کیا اور متعدد زخمی ہوئے ،گل بہادر گروپ کے خوارج کے خلاف کارروائیاں انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئیں،  ان پریسیژن اسٹرائیکس میں گروپ کی قیادت سمیت 60 سے70 خارجیوں کے مارے جانے کی مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات ہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں اور دعوے غلط ہیں اور ان کا مقصد افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروپوں کی حمایت پیدا کرنا ہے،  پاکستان مخلصانہ طور پر اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ آگے بڑھنے کا راستہ افغان سرزمین سے بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے اس پیچیدہ مسئلے کو مذاکرات اور افغان حکام کے ذریعے غیر ریاستی عناصر کے کنٹرول کے ذریعے حل کرنے میں مضمر ہے۔

یہ بھی پڑھین: افواج پاکستان اور پاک فضائیہ نے افغانستان میں طالبان کی پناہ گاہوں پر اسٹرائیکس کر دی

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اپنی علاقائی سالمیت اور پاکستانی عوام کی جانوں کے تحفظ کے تمام حقوق حاصل ہیں اور ہم افغانستان کے اندر سے سرگرم دہشت گردوں کو امن کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

editor

Related Articles