بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں پاکستان میں انٹرنیٹ خدمات اور درآمدی سولر پینلز پر ٹیکس میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، مالی خسارے پر قابو پانے اور محصولات میں اضافے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نئی ٹیکس تجاویز مرتب کی ہیں، جو آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حصہ بن سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے زرعی کھاد اور زہریلی ادویات جیسے حساس اشیا پر ٹیکس لگانے کی تجاویز مسترد کر دی ہیں۔ تاہم، دیگر شعبوں سے آمدنی بڑھانے پر غور جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے چند اہم شعبوں، خاص طور پر انٹرنیٹ خدمات اور سولر توانائی سے متعلق اشیا پر ٹیکس بڑھانے کی سفارشات پیش کی ہیں۔
درآمدی سولر پینلز پر جی ایس ٹی میں 8 فیصد اضافہ ممکن
ذرائع کے مطابق درآمدی سولر پینلز پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ممکنہ طور پر اس فیصلے کا اطلاق جنوری 2026 سے کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں گھریلو اور تجارتی سطح پر سولر توانائی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس سے حکومت کے روایتی بجلی گھروں پر انحصار میں کمی آ رہی ہے۔
انٹرنیٹ خدمات پر ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ زیرِ غور
ایف بی آر کی سفارشات میں انٹرنیٹ خدمات پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 18 یا 20 فیصد تک کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ اضافہ اسی صورت میں لاگو ہو گا اگر مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران محصولات کا ہدف پورا نہ ہو سکا، یا حکومتی اخراجات میں کنٹرول نہ رکھا جا سکا۔
سولر انرجی کے فروغ پر حکومتی تشویش
پاکستان میں اس وقت گھروں کی چھتوں اور تجارتی عمارتوں پر نصب سولر سسٹمز سے تقریباً 6 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ یہ صلاحیت اگلے چند برسوں میں 25 سے 30 ہزار میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم، حکومت کو اس بڑھتے رجحان پر تشویش ہے کیونکہ اس سے قومی گرڈ پر انحصار کم ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کو بجلی گھروں کو ’کیپیسٹی پیمنٹس‘ کی مد میں خطیر رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔
رواں مالی سال کے دوران ان ادائیگیوں کا تخمینہ 1.7 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے، جو بجٹ پر ایک بڑا بوجھ ہے۔
آئی ایم ایف کی قسط اور آئندہ جائزہ رپورٹ
یہ تمام ممکنہ اقدامات آئی ایم ایف کی آئندہ جائزہ رپورٹ کا حصہ ہوں گے۔ اگر پاکستان اپنی مالی کارکردگی سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، تو تقریباً ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تجاویز پر عملدرآمد سے صارفین پر مہنگائی کا اضافی بوجھ پڑے گا، خاص طور پر انٹرنیٹ اور سولر انرجی کے شعبے میں۔
ٹیکنالوجی اور ماحول دوست توانائی پر ٹیکس، دو دھاری تلوار
حکومت کی یہ حکمتِ عملی جہاں مالی خسارہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، وہیں یہ فیصلہ عام صارفین، خاص طور پر متوسط طبقے اور ماحول دوست توانائی کے حامیوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ حکومت کو ٹیکس اصلاحات میں توازن پیدا کرنا ہوگا تاکہ آمدنی میں اضافہ تو ہو، لیکن ترقی پذیر شعبوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔