افغانستان میں طالبان اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر افواجِ پاکستان اور پاک فضائیہ نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایئر اسٹرائکس کی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق یہ کارروائیاں افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے علاقوں ارگن اور برمل میں کی گئیں، جہاں دہشت گرد گروہوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
ذرائع کے مطابق سیز فائر کے خاتمے کے بعد پاکستان نے ملک کے دفاع کے لیے عالمی قوانین کے مطابق کارروائی کی۔ افغان سرزمین سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے افغان طالبان اور دہشت گردوں پر پاک فوج نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دشمن کے متعدد ٹھکانے نشانہ بنے۔
رپورٹس کے مطابق پاک فوج کی کارروائی کے دوران افغان طالبان کی چیک پوسٹس اور عسکری مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایئر اسٹرائکس میں دہشت گرد گروہوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان کی سرحدی خودمختاری کے تحفظ اور دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے تدارک کے لیے کی گئی۔
مزید تفصیلات کے مطابق پاک فوج نے افغانستان میں گل بہادر گروپ کے دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا، جو شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ان دہشت گردوں نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پاکستان کے اندر متعدد حملے کرنے کی کوشش کی تھی، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے مؤثر انداز میں ناکام بنایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی کے دوران 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں گل بہادر گروپ کے اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔ عسکری حکام کے مطابق انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی ان کارروائیوں میں انتہائی درستگی کے ساتھ دہشت گردوں کے کیمپ اور قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق گل بہادر گروپ کے دہشت گردوں نے حال ہی میں شمالی وزیرستان میں ایک گاڑی میں بارودی دھماکے کے ذریعے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک سپاہی شہید اور متعدد اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف ہدفی کارروائیوں کا آغاز کیا، جن میں 60 سے 70 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
عسکری ذرائع کے مطابق پاک فوج کی یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دہشت گردوں کے ٹھکانے مکمل طور پر ختم نہیں کر دیے جاتے۔