اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے عوام کو جعلی ٹرانسفر اسکیموں سے خبردار کر دیا ہے۔
دھوکے بازوں نے نیا جھانسہ اپنالیا اب آئے دن غلطی سے پیسے بھیجنے کا ڈرامہ رچا کر عوام سے رقم ہتھیا رہے ہیں، ایسے دھوکے بازوں سے بینک دولت پاکستان نے ہوشیار رہنے کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے مالیاتی فراڈ سے بچنے کے لیے ہدایت جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غلطی سے پیسے بھیجنے کے دھوکے سے ہوشیار رہیں، دھوکے باز افراد اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے غلطی سے آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے بھیج دیے ہیں اور آپ پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ رقم واپس کریں۔
اسٹیٹ بینک نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ کال یا ایس ایم ایس کے جھانسے میں نہ آئیں، کیونکہ یہ ایک نیا اور باقاعدہ سوچا سمجھا حربہ ہے جس کے ذریعے فراڈیے لوگوں کے بینک اکاؤنٹس سے رقم چرا رہے ہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق اگر کسی شہری کو بینک سے متعلق کوئی کال یا پیغام کسی عام نمبر سے موصول ہو، نہ کہ بینک کے آفیشل نمبر سے، تو یہ ممکنہ طور پر دھوکہ دہی ہے اور اس پر یقین کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ایسی صورت میں شہریوں کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنی حالیہ ٹرانزیکشنز چیک کریں اور کسی بھی قسم کی رقم کی منتقلی سے قبل مکمل تصدیق کریں ، اگر کوئی فراڈ ہو جائے تو فوری طور پر متعلقہ بینک سے رابطہ کریں، واقعے کی اطلاع دیں، اور مشتبہ نمبر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی ہیلپ لائن 0800-25625 پر رپورٹ کریں۔
اسٹیٹ بینک نے زور دیا ہے کہ ڈیجیٹل بینکنگ کے دوران عوام کو انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، اور کسی بھی شخص کے ساتھ اپنی ذاتی معلومات، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات یا او ٹی پی (OTP) ہرگز شیئر نہ کریں، چاہے وہ خود کو بینک کا نمائندہ ہی کیوں نہ ظاہر کرے۔