سعودی وزارت حج و عمرہ نے عمرہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے نئی عمرہ پالیسی کا اعلان کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق نئے قانون کے تحت ویزا کی ابتدائی مدت یعنی داخلے سے قبل کی مدت 3 ماہ سے کم کر کے اب ایک ماہ کر دی گئی ہے، تاہم سعودی عرب میں داخل ہونے کے بعد عازمین کو قیام کیلئے پہلے کی طرح 3 ماہ کا وقت ہی ملے گا۔
یہ اقدام بڑھتی ہوئی عمرہ زائرین کی تعداد کو منظم کرنے کیلئے اٹھایا گیا ہے جس کا اطلاق پاکستان سمیت تمام ممالک کے عمرہ زائرین پر ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے اختتام اور موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں زائرین کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ، نیشنل کمیٹی برائے عمرہ و زیارت کے مشیر احمد بجعفر نے بتایا کہ وزارت کا یہ فیصلہ انتظامی بہتری اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کیلئے اٹھایا گیا قدم ہے، نئے نظام سے حکام کو زائرین کی آمد و رفت پر بہتر نگرانی اور سہولتوں کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں عمرہ سیزن کے آغاز یعنی جون کے اوائل سے اب تک دنیا بھر سے 40 لاکھ سے زائد زائرین کو عمرہ ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، یہ تعداد پچھلے سیزنز کے مقابلے میں ریکارڈ اضافہ ہے اور صرف 5 ماہ میں ہی غیر معمولی پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب میں ادارہ امور حرمین شریفین کی جانب سے اردو سمیت متعدد زبانوں میں عمرہ زائرین کے لیے ڈیجیٹل رہنما ایپ’دلیل المصلی‘ کی سہولت فراہم کردی گئی ہے۔
سعودی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل رہنما ایپ کے ذریعے عمرہ زائرین حرمین نمازوں کے اوقات، آئمہ حرمین و مؤذنین کا تعارف، قرآن کریم کے ڈیجیٹل نسخے، خطبات جمعہ اور حرمین شریفین میں ہونے والے دروس کے علاوہ مسنون اذکار بھی دیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق رمضان میں اعتکاف کے حوالے سے مکمل رہنمائی کے بارے میں اس پلیٹ فارم پر تفصیلات فراہم کی گئی ہیں, ڈیجیٹل گائیڈ عربی، اردو، انگلش، ترکی، فرانسیسی، ملاوی اور انڈونیشی زبانوں میں فراہم کی گئی ہے جس کے استعمال کو بھی انتہائی آسان بنادیا گیا ہے۔