سعودی عرب کا نیوم سمیت بڑے رئیل اسٹیٹ منصوبوں سے سرمایہ ہٹانے کا فیصلہ

سعودی عرب کا نیوم سمیت بڑے رئیل اسٹیٹ منصوبوں سے سرمایہ ہٹانے کا فیصلہ

سعودی عرب نے اپنے 925ارب ڈالر کے خودمختار سرمایہ کاری فنڈ (پبلک انویسٹمنٹ فنڈ – PIF) کی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے نیوم سٹی اور دیگر بڑے رئیل اسٹیٹ منصوبوں سے سرمایہ کاری ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ  فنڈ اب نیوم جیسے بڑے رئیل اسٹیٹ اور میگا ڈویلپمنٹ منصوبوں سے توجہ ہٹا کر دیگر منافع بخش اور پائیدار شعبوں کی طرف رخ کرے گا۔

ذرائع کے مطابق، نیوم اور دیگر بڑے منصوبوں میں تاخیر اور بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ نئی سرمایہ کاری پالیسی کے تحت توجہ توانائی، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، اور بین الاقوامی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی مواقع پر مرکوز کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: سعودی وزارت حج و عمرہ کیجانب سے عمرہ پالیسی میں اہم تبدیلیوں کا اعلان

پبلک انویسٹمنٹ فنڈ، جو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کا مرکزی ستون ہے، اب اپنی سرمایہ کاری کے توازن کو بہتر بنانے اور معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے کی کوشش میں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سعودی معیشت کے لیے ایک حقیقت پسندانہ موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ نیوم جیسے منصوبے اپنی لاگت، تکمیل کے وقت اور سرمایہ کاری کے حجم کے باعث چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

عالمی سرمایہ کاری تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ سعودی فنڈ اب عالمی مارکیٹ میں زیادہ فعال کردار ادا کرے گا، خاص طور پر ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں۔

editor

Related Articles