تیل بحران سنگین ہونے کے باعث عالمی معیشت میں ہلچل ، مہنگائی کا نیا طوفان آنے کو تیار

تیل بحران سنگین ہونے کے باعث عالمی معیشت میں ہلچل ، مہنگائی کا نیا طوفان آنے کو تیار

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ایک بار پھر عالمی معیشت کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ مہنگائی میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

برینٹ کروڈ کی قیمت 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا ہوئی، جس کے اثرات مختلف ممالک کی معیشتوں پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے سے امریکا میں مہنگائی کی شرح میں 1 سے 2 فیصد پوائنٹس تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی مہنگائی دوبارہ 5 فیصد کے قریب پہنچ سکتی ہے۔

اسی طرح جرمنی میں لاجسٹکس اور مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات صارفین کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، جبکہ وہاں بھی مہنگائی میں 1 سے 2 فیصد پوائنٹس تک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ،  اس کے ساتھ صنعتی شعبے کے منافع کی شرح پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی ناکہ بندی سے تیل کی عالمی قیمت 140 ڈالر تک پہنچ جائیگی، باقر قالیباف کا انتباہ

دوسری جانب پاکستان میں معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر تیل کی بلند قیمتیں برقرار رہیں تو مہنگائی میں 2 سے 4 فیصد یا اس سے بھی زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پراشیائے خوردنوش کی قیمتیں زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں۔

30 اپریل 2026 کو عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں کو اس وقت بڑاجھٹکا پہنچا  جب آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی بیانات نے سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کا خدشہ پیدا کیا ،  اسی خوف کے باعث تیل کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں 10 سے 13 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی نہ صرف توانائی مارکیٹ بلکہ عالمی معیشت، مہنگائی، اور اسٹاک مارکیٹس پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے، اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles