آئینی عدالت کا قیام اور جگہ کے انتخاب سے متعلق بڑی پیش رفت

آئینی عدالت کا قیام اور جگہ کے انتخاب سے متعلق بڑی پیش رفت

آئینی ترمیم کے بعد ملک کے عدالتی نظام میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری شروع ہو گئی ہے ذرائع کے مطابق مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے لیے فیڈرل شریعت کورٹ کی عمارت کو استعمال کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تھرڈ فلور کو خالی کروانے کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ نئی آئینی عدالت کے دفاتر وہاں منتقل کیے جا سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تیسرے فلور پر موجود دفاتر اور ریکارڈ کی منتقلی شروع کر دی گئی ہے جو اس منصوبے کے عملی مرحلے میں داخل ہونے کی علامت ہے۔

حکومت غور کر رہی ہے کہ وفاقی شریعت کورٹ کی موجودہ عمارت کو آئینی عدالت کے لیے مختص کر دیا جائے تاکہ آئینی نوعیت کے مقدمات کے لیے ایک جامع اور مرکزی ادارہ قائم کیا جا سکے۔

یہ خبربھی پڑھیں :آئین کے ارٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم کی حمایت کرتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا اعلان
ذرائع کے مطابق ایک سینئر وفاقی وزیر نے حال ہی میں شریعت کورٹ کا دورہ بھی کیا جہاں ججز نے حکومت کے اس منصوبے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے شریعت کورٹ کے موجودہ آئینی دائرہ اختیار پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ماہرین قانون کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اگر وفاقی آئینی عدالت قائم ہو گئی تو یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہوگی جبکہ سپریم کورٹ کو اپیل کورٹ کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔

اس ترمیم کے بعد آئینی معاملات کی تشریح اور تنازعات کے حل کے لیے ایک نیا عدالتی ڈھانچہ متعارف ہونے جا رہا ہے تمام نگاہیں اس وقت سپریم کورٹ کے ججز کے ممکنہ ردعمل پر مرکوز ہیں ۔
ان کی رائے اس آئینی ترمیم کے مستقبل کا تعین کرے گی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کے عدالتی نظام کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles