دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے ایک سنگین بحران سے گزر رہی ہے، جس کے اثرات ہر خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس عالمی مسئلے میں ایک بڑا تضاد واضح طور پر سامنے آتا ہے: وہ ممالک جو سب سے کم آلودگی پھیلاتے ہیں، وہی سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان اس ناانصافی کی ایک نمایاں مثال ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں حصہ تقریباً 0.9 فیصد ہے، یعنی ایک فیصد سے بھی کم۔ اس کے مقابلے میں چین تقریباً 30 فیصد، امریکہ 14 فیصد اور بھارت 7 فیصد عالمی اخراج کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ماحولیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان گزشتہ دو دہائیوں میں ٹاپ 10 موسمیاتی متاثرہ ممالک میں شامل رہا ہے۔ صرف سال 2022 کے سیلاب کو ہی دیکھ لیا جائے تو اس نے تباہی کی نئی مثال قائم کی۔ ان سیلابوں سے 3 کروڑ 30 لاکھ (33 ملین) سے زائد افراد متاثر ہوئے، 1700 سے زائد اموات ہوئیں، جبکہ معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ زیرِ آب آ گیا تھا۔
پاکستان میں درجہ حرارت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی علاقوں میں گرمی کی شدت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں اوسط درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح ملک میں تقریباً 7000 سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جو دنیا میں قطبین کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا سیلاب اور پانی کے بحران دونوں کو بڑھا رہا ہے۔
زراعت، جو پاکستان کی معیشت کا تقریباً 19 فیصد حصہ ہے اور تقریباً 38 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے، موسمیاتی تبدیلی سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔ بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن، پانی کی کمی اور شدید گرمی فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں، جس سے غذائی تحفظ خطرے میں پڑ رہا ہے۔
مزید برآں، پاکستان میں پانی کی دستیابی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ فی کس پانی کی دستیابی 1950 میں 5000 کیوبک میٹر سے کم ہو کر آج 1000 کیوبک میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے، جو کہ پانی کی قلت کی خطرناک حد سمجھی جاتی ہے۔
ان تمام اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا غیر متناسب انداز میں کر رہا ہے۔ کم اخراج کے باوجود زیادہ نقصان اٹھانا ایک بڑی عالمی ناانصافی کو ظاہر کرتا ہے، جسے “کلائمٹ جسٹس” کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔
اگرچہ پاکستان نے ماحولیاتی بہتری کے لیے اقدامات بھی کیے ہیں، جیسے شجرکاری مہمات اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے، مگر محدود وسائل کے باعث یہ کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ ایسے ممالک کی مالی اور تکنیکی مدد کرے جو موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہیں لیکن اس کے ذمہ دار نہیں۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے بحران میں ایک متاثرہ فریق ہے، نہ کہ اس کا سبب۔ جب تک عالمی سطح پر انصاف پر مبنی پالیسیاں نہیں بنیں گی، تب تک ایسے ممالک اسی طرح نقصان اٹھاتے رہیں گے۔