انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج 29 مقدمات میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے، جس کے بعد ان کو 18 مئی تک قانونی تحفظ حاصل رہے گا۔
کیس کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی جہاں بشریٰ بی بی اپنے وکیل فیصل ملک اور قانونی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ سماعت کے دوران کیس کی کارروائی آگے نہ بڑھ سکی کیونکہ تفتیشی افسران عدالت میں موجود نہیں تھے۔
تفتیشی افسران کی عدم دستیابی کے باعث عدالت نے کارروائی کو موخر کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔ عدالت نے اس موقع پر واضح ہدایت جاری کی کہ آئندہ سماعت پر تفتیشی افسران کی موجودگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ کیس کی پیش رفت ممکن ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ مقدمات 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مختلف الزامات پر درج کیے گئے تھے جن میں مبینہ طور پر امن عامہ کو نقصان پہنچانے اور دیگر قانونی دفعات شامل ہیں۔ دفاعی وکلا کا مؤقف ہے کہ ان مقدمات میں قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے اور ان کے موکلین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
عدالتی کارروائی کے بعد بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع کے فیصلے کو ان کے قانونی حلقوں کی جانب سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ کیسز کی آئندہ سماعت پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔