چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کا قیام وقت کی ضرورت ہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض

چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کا قیام وقت کی ضرورت ہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض

سابق کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا ہے کہ مجوزہ آئینی ترمیم کے تحت ‘چیف آف ڈیفنس فورسز’(سی ڈی ایف) کا قیام ملکی دفاعی حکمتِ عملی کے لیے ایک ناگزیر قدم ہے۔ ان کے مطابق اس عہدے کا مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطے، منصوبہ بندی اور آپریشنل ہم آہنگی کو مؤثر بنانا ہے، ایسا کام جو موجودہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ہیڈکوارٹرز اس سطح پر انجام نہیں دے پا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم سے جمہوریت مضبوط ہو رہی، یہ ہمارے ملک کی ضرورت ہے : فیصل واوڈا

پیر کے روز آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا کہ ‘چیف آف ڈیفنس فورسز’ کا تصور کوئی نیا نہیں بلکہ اس پر 2005 سے غور و خوض جاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم کئی برسوں سے یہ کہتے آ رہے تھے کہ ہمیں ایک مرکزی کمانڈ کی ضرورت ہے جو تینوں افواج کے درمیان پالیسی، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں ہم آہنگی پیدا کرے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس تصور کو حقیقت میں بدلا جائے۔’

سابق کور کمانڈر نے مزید کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے قیام سے نہ صرف دفاعی نظام میں نظم و ضبط بڑھے گا بلکہ قومی سلامتی کے فیصلے بھی زیادہ مربوط انداز میں لیے جا سکیں گے۔ ان کے بقول، ‘یہ عہدہ اس لیے ضروری ہے کہ ملک کی دفاعی منصوبہ بندی میں ایک مرکزی وژن ہو جو زمینی، فضائی اور بحری افواج کے درمیان توازن برقرار رکھے۔’

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے امکان ظاہر کیا کہ مستقبل میں یہ عہدہ کسی نیول چیف یا ائیر چیف کے پاس بھی جا سکتا ہے، تاہم ابتدائی مرحلے میں اس ادارے کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اگر اسے درست سمت میں استحکام دیا گیا تو یہ ملکی دفاع کے ڈھانچے میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہو گا۔’

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کا 27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف احتجاج ، سب سے بڑی جماعت کی دعویدار 10 افراد نہ نکال سکی

ماہرین کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کا قیام پاکستان کے عسکری ڈھانچے میں ایک بڑی اصلاح قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت تینوں افواج کے سربراہان کے درمیان پالیسی سطح پر براہِ راست رابطہ اور فیصلہ سازی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض کا کہنا تھا کہ یہ قدم نہ صرف دفاعی اداروں کے درمیان تعاون بڑھائے گا بلکہ ملک کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو بھی مضبوط کرے گا، جو بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *