آپریشن سندور” اور تازہ ترین کارروائیوں کا اصل چہرہ سلامتی نہیںبلکہ قبضے کی شرمناک جھلک ہےسرخیوں اور جعلی ہیرو بننے والے میڈیا چہروں کے بہکاوے میں مت آئیے۔
آپریشن سندور اور حالیہ اقدامات دراصل ریاستی دہشت کی نمائندگی ہیں ایک ایسا ڈرامہ جو زمین چھیننے، مسلمانوں کی آواز دبانے اور کشمیر میں نوآبادیاتی قبضے کو معمول بنانے کے لیے رچایا گیا ہے۔
یہی قبضے کی اصل شکل ہے جعلی چھاپے، خودساختہ ہتھیاروں کے ذخیرے اور وہ من گھڑت خبریں جو عوامی رائے کو گمراہ کرنے کے لیے گھڑی جاتی ہیں۔
سولہ گھروں پر چھاپے درجنوں گرفتاریاں، پورے محلوں کی ناکہ بندی یہ سب کچھ عین اس وقت کیا گیا جب اندرونی مخالفت اور عالمی دباؤ بڑھ رہا تھا۔
اور وہ تین سو پچاس کلو بارود اور خودکار بندوقیں”؟ یہ محض ایک پرانی کہانی کا نیا منظر ہے پہلے کہانی لکھی جاتی ہے پھر شواہد گھڑ لیے جاتے ہیں۔
ریاست کا کھیل پرانا اور گندا ہے پہلے حقوق چھینو (آئین کی دفعہ 370 ختم کرو) پھر قوانین بدل کر وادی میں غیر مقامی افراد کو لا کر آبادی کا تناسب بگاڑو۔
افسپا ور پی ایس اے یسے قوانین کے ذریعے شہریوں کو خوف زدہ کرو، فوجی کارروائیوں کو استثنا دواور ناقدین کو غیر معینہ مدت تک جیلوں میں بند رکھو۔
جھوٹے مقابلے، گرفتار صحافی، خاموش سیاست دان اور پھر دعویٰ کہ “سلامتی بحال ہو گئی بس بہت ہو گیا۔اب مزید جھوٹ نہیں، مزید جعلی کارروائیاں نہیں۔
پلوامہ، چٹی سنگھ پورہ اور بے شمار دیگر واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔جب کسی قوم کو طویل عرصے تک دبایا جائے تو اس کی مزاحمت بھی جرم قرار دے دی جاتی ہے۔
یہ انسدادِ دہشت گردی نہیں، بلکہ اجتماعی سزا اور نسلی مٹانے کا عمل ہے۔بین الاقوامی برادری کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ “تزویراتی شراکت داری” کے نام پر ایک ظالمانہ نظام کو جائز قرار دینا انسانی ضمیر کی توہین ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کو آزاد تحقیقات کا مطالبہ کرنا چاہیے، سیاسی قیدیوں کی رہائی پر زور دینا چاہیے، اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرنا چاہیے۔