پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کا نام حال ہی میں جاری کی گئی ڈی کلاسفائیڈ ایپ اسٹین فائلز میں سامنے آیا ہے۔
’’ ایپ اسٹین لسٹ‘‘ ایک ایسے دستاویز کو کہا جاتا ہے جس میں معروف شخصیات کے نام شامل ہیں، جن کا تعلق امریکی فنانسر اور مجرم جنسی مرتکب جیفری ایپ اسٹین سے بتایا گیا ہے۔ یہ فائل ایپ اسٹین کے مواد کے بڑے مجموعے یعنی ایپ اسٹین فائلز کا حصہ ہے۔
ایپ اسٹین جولائی 2019 میں وفاقی الزامات کے تحت گرفتار ہوا تھا، جس میں اس پر 2002 سے 2005 کے دوران نیو یارک اور پام بیچ میں نابالغ لڑکیوں کی انسانی سمگلنگ کرنے کا الزام تھا۔ بعد ازاں 10 اگست 2019 کو اسے مینہٹن کی جیل میں مردہ پایا گیا، اور تحقیقات میں اس کی موت خودکشی قرار دی گئی تھی۔
فلوریڈا کی اٹارنی جنرل پام بانڈی نے ڈی کلاسفائیڈ ریکارڈز کے ’’ پہلے مرحلے‘‘ کو جاری کیا، جس میں پروازوں کے ریکارڈ، شواہد کی فہرست اور ایک ریڈیکٹیڈ کانٹیکٹ لسٹ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کے نام ہٹانے کے بعد مزید دستاویزات بھی عوام کے لیے جاری کی جائیں گی۔
🚨🚨🚨🚨🚨🚨BOMBSHELL: Imran’s name comes up in the Epstein files🚨🚨🚨🚨🚨🚨
Imran’s associations with Ghislaine Maxwell are part of the evidence collected by the US House Oversight Committee’s investigations. https://t.co/xvo907hViY pic.twitter.com/uA5KJO4K6d
— Dan Mir (@DanMir_musings) November 14, 2025

