خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ نے شہداء پالیسی کے تحت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے شہید اہلکاروں کی بیواؤں اور بچوں کی بھرتی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں متعدد اہم امور پر فیصلے کیے گئے اور مختلف پالیسی اقدامات کی منظوری دی گئی ہے ۔
اجلاس میں کابینہ نے شہداء پالیسی کے مطابق شہید کے خاندان کی بحالی اور معاونت کے لیے بیوہ اور بچوں کی سرکاری بھرتی کی منظوری دی۔ اس کے ساتھ ساتھ جگر کی پیوندکاری کے علاج کے لیے مالی معاونت دینے کی منظوری بھی دی گئی ہے ۔ کابینہ نے وٹنس پروٹیکشن قوانین کے ڈرافٹ کو بھی منظور کر لیا، جس کا مقصد گواہوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
صوبائی کابینہ نے کام کی جگہوں پر خواتین کی ہراسانی کی روک تھام کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی، جو اس مسئلے پر مؤثر اقدامات تجویز کرے گی۔ اجلاس میں شندور پولو فیسٹیول میں فاتح ٹیم کے لیے انعامی رقم کی بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد اس روایتی کھیل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حکومت کی پالیسی گائیڈ لائنز بھی پیش کیں اور گزشتہ روز امن جرگے میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر امن سب کا مشترکہ مقصد ہے۔ صوبائی اسمبلی کی تمام قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے کو سود سے پاک بنانے کے لیے پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے کیونکہ سود سے پاک معاشی ماحول قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ حکومتی فنڈز پر کسی قسم کی ذاتی تشہیر کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے تمام اقدامات اور اصلاحات منتخب نمائندوں کی مشاورت سے کیے جائیں گے، تاکہ گورننس کے تمام شعبوں میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔