وفاقی آئینی عدالت کے نئے چیف جسٹس امین الدین خان نے عہدہ سنبھالتے ہی اہم انتظامی تبدیلی کرتے ہوئے عدالت کے لیے نیا رجسٹرار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان تبدیلیوں کا بنیادی مقصد عدالتی نظام کو مزید مؤثر، فعال اور بہتر بنانا ہے تاکہ عدالت کی کارکردگی میں مجموعی طور پر بہتری لائی جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد حفیظ کو وفاقی آئینی عدالت کا نیا رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ ہی مظہر بھٹی کو چیف جسٹس کے سیکرٹری کے طور پر تعینات کیا گیا ہے، جو عدالت کے انتظامی امور، بینچز کی تشکیل اور آئینی نوعیت کے مقدمات کی نگرانی جیسے اہم معاملات دیکھیں گے۔ عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افسران وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان کی شمولیت سے عدالت کے داخلی نظم و نسق میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
عدالت کے مطابق یہ نئی تعیناتیاں چیف جسٹس امین الدین خان کی جانب سے ادارے کی مضبوطی اور اس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ابتدائی کوششوں کا حصہ ہیں۔ انتظامی سطح پر کی جانے والی یہ تبدیلیاں مستقبل میں عدالت کی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔ حلف برداری کی یہ تقریب ایوانِ صدر میں منعقد ہوئی، جہاں صدر آصف علی زرداری نے ان سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
عدالتی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے کی جانے والی یہ تقرریاں مستقبل میں عدالت کے انتظامی ڈھانچے کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی، جس سے مقدمات نمٹانے کے عمل میں بھی بہتری آئے گی۔