وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑنے کہا ہے کہ سینئر صحافی شاہ زیب خانزادہ کو ہراساں کرنے والے شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور اس واقعے کو مثال کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ یہ بیان انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران دیا۔
پروگرام کے دوران میزبان عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ن لیگ کی ٹرول بریگیڈ نے صحافی بے نظیر شاہ کی اے آئی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ اس پر عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ مسلم لیگ ن کی کوئی ٹرول بریگیڈ نہیں ہے اور اگر ہوتی تو وہ بے نظیر شاہ سے فوری معافی نہیں مانگتے بلکہ انہوں نے واقعے کی فوری مذمت کی اور بے نظیر شاہ کو سخت سے سخت ایکشن لینے کی پیشکش کی، جسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔ بعد میں اسی اکاونٹ نے بے نظیر شاہ سے ٹویٹر پر سرعام معافی بھی مانگی۔
عاصمہ شیرازی نے شاہ زیب خانزادہ کے معاملے پر ایکشن کے بارے میں سوال کیا تو عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ شاہ زیب خانزادہ کو ہراساں کرنے والے شخص کا تعلق گجرانوالہ سے ہے، وہ کینیڈا میں ریئل اسٹیٹ ایجنٹ اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن ہیں۔ قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ یہ واقعہ ایک مثال بن سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گوجرانوالہ میں لوگ اس شخص کے گھر جانے کے لیے مشتعل تھے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے اسے روکا کیونکہ یہ سلسلہ مناسب نہیں تھا۔ عطا اللہ تارڑ نے زور دے کر کہا کہ قانون کی عملداری اور ذمہ دارانہ رویہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ ایسے ہراسگی کے واقعات کا سدِ باب ہو سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر جاری مہمات اور ہراسگی کے تمام معاملات کو فوری طور پر نوٹس میں لیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ صحافیوں کی حفاظت اور ان کے حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔