بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو سزا، چین کا ردِعمل سامنے آگیا

بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو سزا، چین کا ردِعمل سامنے آگیا

بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو ملکی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزائے موت پر چین کا باضابطہ ردِعمل سامنے آگیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش کی خصوصی عدالت نے 78 سالہ شیخ حسینہ واجد کو وزیر داخلہ اسد الزماں سمیت سزائے موت کا حکم سنایا۔

فیصلے کے وقت شیخ حسینہ عدالت میں موجود نہیں تھیں کیونکہ اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ بھارت فرار ہوگئی تھیں اور گزشتہ سال 5 اگست سے وہیں مقیم ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کی معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے شیخ حسینہ کی سزائے موت سے متعلق سوال کیا، جس پر ترجمان نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو موت کی سزا سنایا جانا بنگلا دیش کا اندرونی اور قانونی معاملہ ہے، اور اس معاملے پر چین کوئی تفصیلی تبصرہ نہیں کرے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کے قانون اور عدالتی فیصلوں کا احترام ضروری ہوتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے مزید کہا کہ چین نے ہمیشہ بنگلادیش اور اس کے عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھے ہیں اور مستقبل میں بھی یہ دوستی برقرار رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بنگلا دیش آئندہ بھی متحد، مستحکم اور ترقی کرتا ہوا ملک رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’اے آئی کا استعمال‘ پاکستان سے متعلق بڑا انکشاف

عدالتی فیصلے کے مطابق جج غلام مرتضیٰ نے شیخ حسینہ کو تین سنگین الزامات میں مجرم قرار دیا، جن میں مظاہرین پر تشدد کی حوصلہ افزائی، ایسے احکامات جاری کرنا جو ان کی ہلاکتوں کا سبب بنے، اور بعد میں ہونے والے وحشیانہ اقدامات کو روکنے میں ناکامی شامل ہیں۔ ٹریبونل نے پہلے عمر قید کی سزا پر غور کیا تھا، تاہم تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا گیا۔ جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’’ہم نے ان کے لیے صرف ایک سزا یعنی موت کا انتخاب کیا ہے‘‘۔

عدالتی فیصلے کے بعد شیخ حسینہ نے اس فیصلے کو سیاسی، جانبدار اور کینگرو کورٹ کا اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ پہلے سے طے شدہ ہے اور ان کے خلاف ایک منظم سیاسی کارروائی کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ پر ملک میں حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت سے کچلنے، شہریوں کے قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات پر مقدمات چل رہے ہیں جن کے تحت انہیں سخت ترین سزائیں سنائی گئی ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *