ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شامل ہونے سے باضابطہ انکار

ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شامل ہونے سے باضابطہ انکار

مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کی کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شامل نہ ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ  کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دو ٹوک اعلان کر دیا ہے کہ دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے ایرانی وفد پاکستان نہیں جائے گا۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے بریکنگ نیوز جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر جاری رکھے گا اور موجودہ حالات میں مذاکرات کا تسلسل ممکن نہیں رہا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکہ نے ایران سے چین آنے والے جہاز پر قبضہ کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی،ایرانی ترجمان

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھ کر نہ صرف جنگ بندی بلکہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کی بھی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اب بھی غیر حقیقی مطالبات پر اصرار کر رہا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ واشنگٹن سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں کوئی سنجیدہ دلچسپی نہیں رکھتا۔

اسماعیل بقائی نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا پہلے بھی معاہدوں کے منافی اقدامات کرتا رہا ہے، اس لیے ایران اب امریکا پر مزید یقین نہیں کر سکتا۔ ایرانی حکام نے اپنے اس فیصلے اور تحفظات سے پاکستانی ثالث کاروں کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

20 اپریل 2026 کو سامنے آنے والے اس فیصلے نے خطے میں دوبارہ کشیدگی کے سائے گہرے کر دیے ہیں، کیونکہ عالمی برادری کو اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔

پاکستان کی میزبانی میں اپریل کے آغاز میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوا تھا، جس کے بعد دنیا بھر میں یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ شاید اب بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں جاری جنگ ختم ہو جائے گی۔

مزید پڑھیں:ایران نے پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا،ترجمان ایرانی فوج کی تصدیق ،صورتحال ایک بار پھر سنگین

تاہم گزشتہ چند دنوں میں صدر ٹرمپ کی جانب سے بحری بیڑے کی مزید تعیناتی اور ایران پر ’پلان بی‘ کے تحت دباؤ بڑھانے کے بیانات نے صورتحال کو خراب کر دیا۔

ایران کا یہ تازہ فیصلہ پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جنہیں عالمی سطح پر سراہا جا رہا تھا۔ اب سب کی نظریں اسلام آباد پر ہیں کہ کیا پاکستانی قیادت دونوں فریقین کو دوبارہ ایک میز پر لانے میں کامیاب ہو پائے گی یا خطہ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کی طرف بڑھے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *