سیاحوں کی کشتی الٹنے کا سانحہ، کشتی آپریٹر گرفتار، سنگین تفصیلات سامنے آگئیں

سیاحوں کی کشتی الٹنے کا سانحہ، کشتی آپریٹر گرفتار، سنگین تفصیلات سامنے آگئیں

سیف اللہ جھیل میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کی کشتی الٹنے کے افسوسناک واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے کشتی آپریٹر کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ حادثے میں لاپتا ہونے والی  بشریٰ کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیموں کا سرچ آپریشن چوتھے روز بھی جاری ہے۔

ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ کشتی آپریٹر کشتی کا انجن سٹارٹ کیے بغیر ہی جھیل میں لے گیا اس دوران کشتی کا انجن سٹارٹ ہی نہ ہوا جبکہ آپریٹر نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جس کے باعث کشتی الٹ گئی۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ حادثے کے دوران کشتی آپریٹر مبینہ طور پر اپنی جان بچانے کے لیے دوسری کشتی میں منتقل ہو گیا جبکہ کشتی میں سوار افراد پانی میں ڈوب گئے۔ انہی الزامات کی بنیاد پر اسے گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مریم نواز نے اپنے سخت ناقد ناصر مدنی کے ہارٹ اٹیک پر کیسے بدلہ لیا ؟ بڑی خبر آ گئی

ریسکیو 1122 کے مطابق حادثے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 2 افراد کو زندہ بچا لیا گیا تاہم امریکا سے آئی ہوئی بشریٰ تاحال لاپتا ہیں اور غوطہ خور مسلسل جھیل میں ان کی تلاش میں مصروف ہیں۔

ذرائع کے مطابق بشریٰ پاک بحریہ کے ریٹائرڈ افسر عامر اوندل کی بیٹی ہیں۔ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حال ہی میں امریکہ سے پاکستان واپس آئی تھیں۔ خاندان ان کی وطن واپسی کی خوشی میں سیر و تفریح کے لیے سوات گیا تھا مگر یہ خوشی چند لمحوں میں المناک سانحے میں تبدیل ہو گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کشتی آپریٹر کی مبینہ غفلت کشتی کی فنی حالت اور حفاظتی اقدامات سے متعلق تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اگر مزید غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

دوسری جانب ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بشریٰ کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک انہیں تلاش نہیں کر لیا جاتا۔

editor

Related Articles