معروف مذہبی اسکالر ناصر مدنی جنہیں گزشتہ روز جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے جہانیاں میں اچانک دل کا دورہ پڑا تھا اب خطرے سے باہر ہیں اور ان کی حالت پہلے سے بہتر بتائی جا رہی ہے انہیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ملتان کے کارڈیالوجی سینٹر منتقل کیا گیا جہاں بروقت علاج کے باعث ان کی طبیعت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپتال میں ناصر مدنی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کی حالت اطمینان بخش ہے۔ انہیں تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ناصر مدنی نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان کی علالت کی اطلاع ملتے ہی نہ صرف اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ انہیں ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں بلکہ اپنی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر فہد نور کو بھی ان کی عیادت کے لیے اسپتال بھیجا۔
اسسٹنٹ کمشنر فہد نور نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے ناصر مدنی کو پھول پیش کیے ان کی خیریت دریافت کی اور جلد صحت یابی کے لیے وزیراعلیٰ کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا۔
یہ واقعہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ ناصر مدنی ماضی میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں اور انہیں ان کے سخت ناقدین میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم دل کا دورہ پڑنے کی اطلاع ملنے پر وزیراعلیٰ نے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان کی عیادت علاج اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے۔
ناصر مدنی نے اپنے ویڈیو بیان میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے اظہارِ ہمدردی پھول بھیجنے اور علاج کے حوالے سے خصوصی دلچسپی لینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسپتال میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور وہ اب پہلے سے بہتر محسوس کر رہے ہیں۔
سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حصہ ہوتا ہے تاہم بیماری اور انسانی ہمدردی کے مواقع پر خیرسگالی کا اظہار ایک مثبت روایت ہے اور ناصر مدنی کی عیادت کے لیے وزیراعلیٰ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔