علی لاریجانی کیسے ٹریک ہوئے، پھر شہید کردیے گئے، کس نے معلومات فراہم کیں، پردے کے پیچھے محرک عوامل سامنے آگئے

علی لاریجانی کیسے ٹریک ہوئے، پھر شہید کردیے گئے، کس نے معلومات فراہم کیں، پردے کے پیچھے محرک عوامل سامنے آگئے

ایران کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے اہم ترین ستون اور علی لاریجانی کے قتل نے نہ صرف ایرانی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لاریجانی طویل عرصے تک پسِ پردہ رہ کر ایران کی سیکیورٹی اور اسٹریٹجک پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ انہیں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا قریبی ساتھی اور قابل اعتماد مشیر سمجھا جاتا تھا، جس کی وجہ سے ان کی حیثیت غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کی سیاست کا خاموش کھلاڑی ، علی لاریجانی کے اثر و رسوخ کی اندرونی کہانی

رپورٹس کے مطابق آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی قیادت نے اپنی سیکیورٹی حکمت عملی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا تھا۔ علی لاریجانی کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا اور وہ مسلسل اپنی رہائش گاہیں تبدیل کر رہے تھے۔ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران وہ کم از کم 5 مختلف خفیہ مقامات پر منتقل ہوئے تاکہ کسی بھی ممکنہ ٹریکنگ سے بچ سکیں۔

تاہم بین الاقوامی میڈیا، بالخصوص دی یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں نے جدید ٹیکنالوجی اور انسانی جاسوسی کے اشتراک سے ان کا سراغ لگانے میں کامیابی حاصل کی۔ رپورٹس کے مطابق لاریجانی کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی، مگر وہ ہر بار مقام تبدیل کر کے بچ نکلتے تھے۔

بالآخر فیصلہ کن لمحہ اس وقت آیا جب وہ تہران کے نواحی علاقے پردیس میں اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اس خفیہ اطلاع کے بعد فوری کارروائی کی گئی اور ایک انتہائی درست میزائل حملے میں لاریجانی کو نشانہ بنایا گیا۔

اس حملے میں ان کے بیٹے مرتضیٰ، ایک قریبی معاون اور متعدد سیکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حملہ انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی کامسلم ممالک کے نام کھلا خط

اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کو لاریجانی کی موجودگی سے متعلق اہم معلومات تہران کے اندر موجود بعض شہریوں کی جانب سے فراہم کی گئیں، اس کے علاوہ ان کی عوامی سرگرمیاں بھی ان کی شناخت کا سبب بنیں۔ خاص طور پر القدس ڈے کے موقع پر ان کی شرکت اور میڈیا پر نمودار ہونا ان کے لیے خطرناک ثابت ہوا۔

ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق یہ کارروائی ’ہائی ویلیو ٹارگٹ‘ کے خلاف ایک کامیاب آپریشن تھی، جو کئی دنوں کی نگرانی، ڈیجیٹل ٹریکنگ اور انسانی انٹیلی جنس کے اشتراک سے ممکن ہوئی۔

واضح رہے کہ اس واقعے نے ایران کے سیکیورٹی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ اتنی سخت حفاظتی تدابیر کے باوجود ایک اعلیٰ ترین شخصیت کو نشانہ بنانا ایک بڑی انٹیلی جنس کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔

ادھر ایرانی حکام نے اس حملے کو ’کھلی جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے، جبکہ خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *