عالمی شہرت یافتہ چینی ای کامرس کمپنی ’علی بابا گروپ‘ نے پاکستان کے مالیاتی ٹیکنالوجی (فن ٹیک) کے شعبے میں باضابطہ طور پر قدم رکھ دیا ہے۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے علی بابا کی مقامی ذیلی کمپنی ’کوکوٹک‘ کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے لائسنس جاری کر دیا ہے۔ اس منظوری کے بعد علی بابا پاکستان میں اپنی جدید ’بائے ناؤ‘ پے لیٹر (بی این پی ایل) سروس متعارف کرائے گا۔
یہ ماڈل خاص طور پر ان افراد کے لیے نہایت کارآمد ثابت ہوگا جو روایتی بینکنگ نظام تک رسائی نہیں رکھتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس سروس کو علی بابا کے پہلے سے موجود ای کامرس پلیٹ فارم ’ دراز‘ کے ساتھ مربوط کر دیا گیا تو اس سے ملکی سطح پر آن لائن تجارت اور صارفین کی قوتِ خرید میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔
اس منصوبے کے تحت علی بابا پاکستان میں براہِ راست سرمایہ کاری بھی کرے گا، جس سے نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ دیگر عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
ایس ای سی پی کے حکام کا کہنا ہے کہ ’کوکوٹک‘ مکمل طور پر ملکی مالیاتی قوانین کے تحت کام کرے گی تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ان پر قرض کا غیر ضروری بوجھ نہ بڑھے۔ 14 اپریل کو سامنے آنے والا یہ اقدام پاکستان کو عالمی فن ٹیک نقشے پر ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر پیش کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
پاکستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
علی بابا کی جانب سے ’بی این پی ایل‘ سروس کا آغاز ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان کیش لیس اکانومی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف مائل ہے۔ علی بابا پہلے ہی ‘دراز’ کے ذریعے پاکستان کی ای کامرس مارکیٹ پر مضبوط گرفت رکھتا ہے، اور اب ’کوکوٹک‘ کے ذریعے مالیاتی شعبے میں داخلہ اس کی طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ خریداری اور ادائیگی کے عمل کو ایک ہی چھتری تلے لایا جا سکے۔