ایران سے جڑا تنازع اب صرف خبروں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عام لوگوں کی روزمرہ زندگی میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ عالمی رپورٹ کے مطابق اس بحران کے نتیجے میں دنیا بھر میں 3 کروڑ سے زیادہ افراد دوبارہ غربت میں جا سکتے ہیں، یعنی لاکھوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے اور بنیادی ضروریات تک رسائی مشکل ہونے کا خدشہ ہے۔
یونائیٹڈ نیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا اس وقت ایک خطرناک ’’ٹرپل شاک‘ کا سامنا کر رہی ہے، توانائی کی بڑھتی قیمتیں، مہنگائی اور سست ہوتی معیشت، یہ تینوں عوامل مل کر خاص طور پر ان لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں جو پہلے ہی محدود آمدنی پر گزارہ کر رہے تھے۔ اب ان کے لیے بجلی کے بل، ایندھن، آٹا، دال اور دیگر بنیادی اشیا خریدنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یو این ڈی پی کے منتظم الگزینڈر ڈی کروونے کہا کہ سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوں گے جو بڑی مشکل سے غربت سے نکلے تھے، لیکن اب دوبارہ اسی دائرے میں واپس جا رہے ہیں جس میں وہ ایک بار پھر بچوں کی تعلیم، علاج اور خوراک جیسے بنیادی مسائل سے دوچار ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھی۔ جس کے نتیجے میں نہ صرف پیٹرول اور بجلی مہنگی ہوئی بلکہ کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے زرعی پیداوار بھی متاثر ہو ئی۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں خوراک کے شدید بحران کے باعث غریب ممالک میں لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل ہو جائے گی۔
عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے مطابق اس تنازع کے اثرات وقتی نہیں ہوں گے بلکہ طویل عرصے تک عالمی معیشت کو کمزور کر دےگے۔ دوسری جانب آرگنائزیشن برائے کارپرریشن اینڈ ڈولپمنٹ کے مطابق امیر ممالک کی جانب سے ترقیاتی امداد میں کمی بھی ایک تشویشناک پہلو ہے۔ جن ممالک کو سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے، وہ مزید تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر عالمی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں بھوک، بے روزگاری اور عدم استحکام کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ آنے والے وقت میں حالات مزید خراب ہو جائے گےاور سب سے زیادہ قیمت وہی لوگ ادا کریںگے جو پہلے ہی کمزور معاشی حالات کا شکا ر ہیں۔