صوبہ پنجاب ملک میں پیف ٹیک قائم کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پراونشنل انٹیلی جنس فیوژن اسیسمنٹ سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہیں پیف ٹیک اور امن و امان سے متعلق مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق صوبے میں پہلی مرتبہ اینٹی ڈرون یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی باقاعدہ منظوری وزیراعلیٰ نے دے دی۔
حکام کے مطابق یہ یونٹ حساس مقامات کی نگرانی، غیرقانونی ڈرون سرگرمیوں کی روک تھام اور سیکیورٹی خطرات کی بروقت نشاندہی میں معاون ثابت ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب میں فوری طور پر سائبر کرائم سیل قائم کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے تاکہ آن لائن جرائم، ڈیجیٹل فراڈ اور سوشل میڈیا سے جڑے جرائم کی مؤثر روک تھام کی جا سکے، انہوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں مسلسل کومبنگ آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔
داخلی اور خارجی راستوں پر اسپیشل ڈیجیٹل اسکینرز نصب کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مشتبہ نقل و حرکت کی مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے وسل بلوئر سسٹم کو مستحکم بنانے کا بھی حکم دیا گیا ہے، تاکہ شہری خفیہ معلومات محفوظ انداز میں متعلقہ اداروں تک پہنچا سکیں۔
عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے لیے خصوصی ڈیش بورڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے سیکیورٹی صورتحال کی براہ راست نگرانی کی جا سکے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پیف ٹیک کے تحت سائبر سیکیورٹی اور دیگر جدید تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ایک اے آئی ہب بھی قائم کیا جائے گا۔
مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے واقعات پر محض ردعمل دینے کے بجائے پیشگی کارروائی کی حکمت عملی اپنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب صوبے کو ملک کا محفوظ ترین خطہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔