کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ میں آ کر ایسا تجارتی معاہدہ کیا جو بھارتی کسانوں کے مفادات کے خلاف ہے۔
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین فائلز کے اجرا کی دھمکی دیتے ہوئے وزیر اعظم کو معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔
ضلع کنور میں کسانوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت یہ سمجھنے میں ناکام رہی ہے کہ کسان ملک کی بنیاد ہیں[ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آئی ٹی اور دیگر شعبوں پر طویل تقاریر کی جاتی ہیں، تاہم مضبوط زرعی بنیاد کے بغیر کوئی بھی معاشی ڈھانچہ قائم نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جو شخص بنیاد رکھتا ہے اسے نہ تو عزت ملتی ہے اور نہ ہی مناسب تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، حالانکہ روزمرہ زندگی میں ہر شخص کسان کی محنت کا مرہون منت ہوتا ہے،راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے امریکی صدر کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جو ملکی زرعی بنیاد کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
ا نہوں نے کہا کہ بھارتی کسان زیادہ تر چھوٹے پیمانے پر کاشتکاری کرتے ہیں اور ان کے پاس جدید مشینری یا وسیع فارم نہیں ہوتے، جبکہ امریکی کسان بڑے فارمز اور جدید زرعی آلات سے لیس ہیں، ایسے میں امریکی کسانوں کو بھارتی زرعی منڈیوں تک رسائی دینا ایک مجرمانہ اقدام ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں کسی بھی وزیر اعظم نے امریکی کسانوں کو بھارت میں سویابین، مکئی اور پھل جیسی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی تھی، کیونکہ سبز اور سفید انقلاب اسی سوچ کے تحت آئے تھے کہ زراعت کو مضبوط بنیاد فراہم کی جائے۔
ان نے مزید کہا کہ زراعت سے متعلق اختلافات کی وجہ سے بھارت اور امریکا کے درمیان معاہدہ چار ماہ تک تعطل کا شکار رہا اور اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا رہا۔
راہول گاندھی نے مزید کہا کہ تقریباً 35 لاکھ ایپسٹین فائلز اب تک جاری نہیں کی گئیں اور یہ امریکی حکومت کے پاس خفیہ ہیں، جن میں بھارت کے وزیر اعظم سے متعلق معلومات بھی موجود ہیں۔
انہوں نے مرکزی وزیر ہردیپ پوری اور انیل امبانی کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اصل ہدف نریندر مودی ہیں ،کانگریس رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا میں اڈانی کیس ایک اور دباؤ کا ذریعہ ہے، اڈانی کوئی عام کمپنی نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر اعظم کا مالیاتی ڈھانچہ ہے۔
امریکا میں درج مقدمے کے باعث متعلقہ شخصیات بیرون ملک سفر نہیں کر سکتیں ،انہوں نےکہا کہ مودی کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو مالیاتی ڈھانچے کو بے نقاب کر دیا جائے گا۔