افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیے جانے سے متعلق سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
افغان جریدے ہشت صبح نے ایک تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں قائم طالبان رجیم کی سرپرستی میں القاعدہ اور فتنہ الخوارج، جسے کالعدم ٹی ٹی پی بھی کہا جاتا ہے، کو محفوظ ٹھکانے اور سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان نہ صرف ان تنظیموں کی پشت پناہی کر رہے ہیں بلکہ ان کے لیے باقاعدہ رہائشی اور تنظیمی ڈھانچہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
جریدے کا کہنا ہے کہ صوبہ غزنی میں القاعدہ اور فتنہ الخوارج کے لیے چار رہائشی کمپلیکس تعمیر کیے گئے ہیں جو مخصوص طور پر ان عناصر کے لیے مختص ہیں۔ ان مقامات پر بڑے مذہبی مدارس بھی قائم کیے گئے ہیں جبکہ خصوصی حفاظتی انتظامات کے ذریعے انہیں بیرونی نگرانی سے محفوظ رکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشتگرد گروہوں کو لاجسٹک سپورٹ، تربیتی سہولیات اور نقل و حرکت میں آسانی فراہم کی جا رہی ہے جس کے باعث خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ جریدے نے طالبان رجیم کو ایک دہشتگرد گروہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی سطح پر ان کی حمایت یا ہمدردی درست نہیں۔
اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو افغانستان کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے۔
ہشت صبح کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان پر قابض طالبان رجیم کے اقدامات کے باعث 30 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے جبکہ لاکھوں افغان شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ رپورٹ میں طالبان کو موجودہ تباہی اور انسانی بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری طالبان کی زیر سرپرستی سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اور مربوط اقدامات کرے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی مضبوط شواہد کے ساتھ عالمی فورمز پر افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں سے متعلق اپنے تحفظات پیش کر چکا ہے اور بارہا خبردار کیا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان الزامات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات نہ کی گئیں تو خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور سرحدی سلامتی کے مسائل سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ صورتحال پر عالمی برادری کی توجہ اور مربوط حکمت عملی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔