وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو مرکزی ملزم نامزد کر کے چالان تیار کر لیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق 57 صفحات پر مشتمل یہ جامع چالان کل تک متعلقہ عدالت میں جمع کروا دیا جائے گا، جس میں مجموعی طور پر 11 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے چالان کے مطابق اس کیس میں عمران خان کے علاوہ طارق شفیع، حامد زمان اور دیگر اہم شخصیات کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ عارف نقوی، طارق رحیم شیخ اور ایک اور ملزم کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک سے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 1800 ٹرانزیکشنز ہوئیں، جن کے ذریعے 2.1 ملین ڈالر کی خطیر رقم منتقل کی گئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ رقوم ’نیا پاکستان‘ کے نام سے بنائے گئے اکاؤنٹس میں آئیں اور اس میں ’ووٹ آن کرکٹ لمیٹڈ‘ نامی کمپنی نے بھی بھاری رقوم منتقل کیں۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے تمام ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ اور دستاویزی ثبوت چالان کا حصہ بنا دیے ہیں۔
ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر ملکی کمپنیوں اور افراد سے ممنوعہ فنڈز حاصل کر کے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ اس چالان کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ملک میں ایک نیا سیاسی و قانونی محاذ کھلنے کا امکان ہے، جبکہ ایف آئی اے نے چالان کی جلد سماعت کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ 14 اپریل کو سامنے آنے والی اس پیش رفت نے پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ فارن فنڈنگ کیس پاکستان کی سیاسی تاریخ کے طویل ترین کیسز میں سے ایک ہے، جس کی ابتدا الیکشن کمیشن آف پاکستان سے ہوئی تھی۔ اس کیس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیا کسی سیاسی جماعت نے غیر ملکی شہریوں یا کمپنیوں سے فنڈز حاصل کیے، جو کہ پاکستانی قانون کے تحت ممنوع ہے۔
ایف آئی اے کی حالیہ تحقیقات نے اب اس معاملے کو الیکشن کمیشن سے نکال کر فوجداری کارروائی کی طرف موڑ دیا ہے۔ 2.1 ملین ڈالر کی رقم اور عالمی سطح پر پھیلی ہوئی 1800 ٹرانزیکشنز کا سراغ لگانا ایف آئی اے کے لیے ایک بڑا ٹاسک رہا ہے، جس کے اثرات براہِ راست پی ٹی آئی کی سیاسی حیثیت اور قیادت پر پڑ سکتے ہیں۔