ایران کا بڑا یوٹرن؟ جوہری پروگرام معطل، افزودہ یورینیم دوست ملک کے حوالے کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی، امریکی میڈیا کا دعویٰ

ایران کا بڑا یوٹرن؟ جوہری پروگرام معطل، افزودہ یورینیم دوست ملک کے حوالے کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی، امریکی میڈیا کا دعویٰ

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک اہم لچکدار مؤقف اختیار کرنے کے اشارے دیے ہیں اور وہ پروگرام کو معطل یا محدود کرنے پر آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تہران خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے ایک نئے علاقائی نیوکلیئر پاور کنسورشیم کے قیام پر عمل درآمد چاہتا ہے، جسے امریکا کی بالواسطہ حمایت بھی حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلیے پاکستان کی سفارتی کوششیں شروع

میڈیا رپورٹ کے مطابق مجوزہ علاقائی نیوکلیئر پاور کنسورشیم کا مقصد خطے میں پرامن جوہری توانائی کے فروغ کو یقینی بنانا ہے، تاکہ یورینیم کی افزودگی جیسے حساس مراحل کو کسی ایک ملک تک محدود رکھنے کے بجائے اجتماعی اور شفاف فریم ورک کے تحت چلایا جا سکے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس ماڈل سے ایران کے جوہری عزائم پر عالمی خدشات میں کمی آ سکتی ہے۔

اسی تناظر میں ایران کے سینیئر رہنما علی لاریجانی نے حال ہی میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم رابطہ کیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس رابطے کے دوران علی لاریجانی نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا خصوصی پیغام پیوٹن تک پہنچایا، جس میں جوہری معاہدے کی بحالی اور باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران 2015 کے جوہری معاہدے ’جے سی پی او اے‘کے فریم ورک کے تحت اپنی افزودہ یورینیم روس بھیجنے کے لیے بھی تیار ہے، بشرطیکہ عالمی پابندیوں میں نرمی اور اقتصادی ریلیف فراہم کیا جائے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق رکھتا ہے، تاہم وہ اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ شفاف تعاون کے لیے بھی آمادہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پیش رفت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو نہ صرف ایران اور مغربی ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں جوہری کشیدگی کم کرنے کی سمت ایک اہم قدم بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج کا دارومدار امریکا، یورپی طاقتوں اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات پر ہوگا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *