امریکا اور ایران کے درمیان جاری حساس مذاکرات اُس وقت مکمل طور پر ناکام ہو گئے جب فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے، مگر اسی لمحے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مختلف ہی منظر میں نظر آئےجب وہ میامی میں منقعدہ ایف سی فائٹ ایونٹ میں دکھائی دئیے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق جب اسلام آباد میں جاری طویل مذاکرات ٹوٹنے کا اعلان کیا جا رہا تھا، اس وقت صدر ٹرمپ میامی میں منعقد ہونے والے ایک بڑے یو ایف سی فائٹ ایونٹ میں موجود تھے، جہاں وہ میچز سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایران سے کسی معاہدے کا ہونا یا نہ ہونا ان کے لیے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا: ’’ہمیں فرق نہیں پڑتا، ہم جیتتے ہیں، چاہے جو بھی ہو۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام مذاکرات میں مصروف تھے اور دوسری جانب ایران کے ساتھ کشیدہ صورتحال کے خاتمے کی کوششیں جاری تھیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایک طرف عالمی سطح پر اہم سفارتی مذاکرات کا بوجھ تھا اور دوسری طرف صدر کا یو ایف سی ایونٹ میں موجود ہونا ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے، جس نے امریکی خارجہ پالیسی کے انداز پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ موقف کہ ’’نتیجہ کچھ بھی ہو، ہم جیتتے ہیں‘‘ان کی سخت گیر حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، تاہم مذاکرات کے ناکام ہونے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے