آسٹریلیا نے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا درخواست دینے کا پورا عمل مزید آسان، تیز اور جدید تقاضوں کے مطابق بنا دیا ہے۔
اب پاکستانی درخواست گزار صرف اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے گھر بیٹھے وہ تمام معلومات فراہم کر سکیں گے جو پہلے سفارتخانے یا ویزا سینٹر جاکر جمع کرانی پڑتی تھیں۔
اس سہولت کا باضابطہ اعلان اسلام آباد میں آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹم کین نے ایک خصوصی تقریب کے دوران کیا، جہاں انہوں نے اس نئے نظام کو دونوں ممالک کے درمیان سفری اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔
ہائی کمشنر کے مطابق آسٹریلین امیگریشن کی نئی موبائل ایپ درخواست دہندگان کو پاسپورٹ کی تفصیلات، بائیومیٹرکس، فوٹوگراف اور دیگر ضروری معلومات آّن لائن اپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
اس ایپ کا مقصد شہریوں کو بار بار کے چکروں سے نجات دلانا ہے، پہلے ویزا کے لیے درخواست دینا ایک طویل اور وقت لینے والا مرحلہ ہوتا تھا، جس کے لیے لوگوں کو ویزا سینٹرز پر لمبی قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا تھا، دستاویزات کی تصدیق کے لیے مختلف دفاتر کے متعدد چکر لگانے پڑتے تھے اور کئی بار صرف ایک چھوٹی سی کمی کی وجہ سے انہیں دوبارہ وہی سلسلہ دہرانا پڑتا تھا مگر اب جدید ایپلیکیشن کے ذریعے یہ تمام تر عمل کہیں زیادہ آسان، تیز اور مؤثر بنا دیا گیا ہے۔
اس نئے ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے امید کی جا رہی ہے کہ نہ صرف پاکستانی درخواست گزاروں کا وقت اور خرچہ بچ سکے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بھی مضبوطی ملے گی۔
ایپ کا استعمال انتہائی سادہ رکھا گیا ہے تاکہ عام صارف بھی بغیر کسی تکنیکی مشکل کے اپنی درخواست مکمل کر سکے، یہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آسٹریلیا ٹیکنالوجی کے استعمال سے ویزا خدمات کو جدید بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔
یوں آسٹریلوی امیگریشن ایپ کا آغاز ایک اہم پیش رفت ہے جو مستقبل میں ویزا کے پورے نظام کو مزید شفاف، تیز اور قابلِ اعتماد بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔