کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم، سکھ برادری کا بھارتی جابرانہ نظام کے خلاف اعلانِ بغاوت

کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم، سکھ برادری کا بھارتی جابرانہ نظام کے خلاف اعلانِ بغاوت

کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان کے قیام کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں ہزاروں سکھوں نے بھرپور شرکت کر کے بھارت کے ظالمانہ نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ہے۔

کینیڈا میں سکھ برادری نے بھارتی حکومت کی پالیسیوں کو ’جابرانہ، فاشسٹ اور ظالمانہ‘ قرار دیتے ہوئے علیحدگی کے مطالبے کی بھی تجدید  کردی ہے، علیحدگی پسند تنظیم ’سکھ فارجسٹس‘ کے مطابق ریفرنڈم میں 53 ہزار سے زیادہ سکھوں نے حق رائے دہی استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سالمیت خطرے میں، واشنگٹن ڈی سی میں آج ’خالصتان ریفرنڈم‘ کا انعقاد، ہزاروں سکھوں کی شرکت متوقع

انتہائی سرد موسم، برفباری اور منفی درجہ حرارت کے باوجود ہزاروں افراد نے لانگ لائنز میں گھنٹوں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالا۔ سکھ فار جسٹس کا کہنا ہے کہ ’سردی کی شدت نے سکھوں کے جذبے کو کمزور نہیں کیا بلکہ یہ اشارہ ہے کہ بھارتی ریاستی جبر کے خلاف برادری کے حوصلے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں‘۔

’ریفرنڈم مودی کی فسطائیت کا جواب ہے‘، گرپتونت سنگھ پنوں

سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوٹاوا میں ہونے والا خالصتان ریفرنڈم ’ہندوتوا کے دہشتگرد مودی کی گولی اور بم کا جواب بیلٹ سے دینے کی ایک پرامن جدوجہد‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مودی حکومت کی غاصبانہ پالیسیوں کی سیاسی موت ووٹ اور عالمی احتساب کے ذریعے ہی ممکن ہے‘۔ ‘1984 کی سکھ نسل کشی کے زخم آج بھی تازہ ہیں اور اب مودی سرکار پنجاب میں سکھوں کا معاشی قتل کر رہی ہے‘۔

پنوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کینیڈین سیکیورٹی ایجنسیاں یہ واضح کر چکی ہیں کہ ’مودی حکومت بیرون ملک سکھوں کے قتل، دھمکیوں اور بھتہ خوری کے نیٹ ورکس میں ملوث ہے‘، جو سکھ برادری کے خلاف بھارتی ریاستی رویے کو مزید بے نقاب کرتا ہے۔

مودی کی سفاکیت کے خلاف اوٹاوا کی فضائیں گونج اٹھیں

ریفرنڈم کے دوران سکھ برادری کی جانب سے بھارتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ اوٹاوا کے مختلف مقامات پر سکھ خاندان، نوجوان، بزرگ اور خواتین ہاتھوں میں خالصتان کے جھنڈے اٹھائے نظر آئے، جبکہ بھارت میں اقلیتوں خصوصاً سکھوں کے خلاف مبینہ ظلم و ستم کے خلاف آوازیں بلند کی جاتی رہیں۔

مزید پڑھیں:سکھوں کا بھارت سے پھر علیحدگی کا مطالبہ، خالصتان کیلئے امریکی شہر لاس اینجلس میں ریفرنڈم کا اعلان

شرکا کا کہنا تھا کہ بھارت میں سکھ نوجوانوں کو جبری گمشدگیوں، من گھڑت مقدمات اور پولیس گردی کا سامنا ہے، پنجاب کی معاشی، سیاسی اور مذہبی آزادی کو زبردستی دبایا جا رہا ہے، خالصتان اب ایک نظریاتی نہیں بلکہ عملی عالمی تحریک بن چکا ہے۔

خالصتان تحریک عالمی سطح پر زور پکڑ رہی ہے

تجزیہ کاروں کے مطابق خالصتان ریفرنڈم کی عالمی سطح پر بڑھتی پذیرائی بھارتی حکومت کے لیے سفارتی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں برطانیہ، اٹلی، آسٹریلیا اور امریکا میں بھی اس نوعیت کے ریفرنڈمز ہو چکے ہیں جن میں ہزاروں سکھوں نے شرکت کی۔

سکھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’بھارتی ریاستی ظلم و استبداد کا ردعمل اب عالمی پلیٹ فارمز پر سامنے آ رہا ہے‘۔ ’جمہوری ممالک میں سکھ برادری اب کھل کر اپنا مقدمہ پیش کر رہی ہے‘۔

آزاد ملک کا اعلان ہماری آخری جدوجہد نہیں‘، سکھ برادری

اوٹاوا میں شرکا نے کہا کہ وہ خالصتان کے قیام کو ’بقا اور مذہبی آزادی‘ کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی دباؤ، دھمکیوں اور جابرانہ رویے کے باوجود خالصتان تحریک کمزور نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *