ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا، اسلامی ورثے کی پامالی اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے ایودھیا میں نام نہاد رام مندر پر حالیہ پرچم کشائی کے واقعے کو بھی انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق بابری مسجد جو صدیوں پر محیط تاریخی اسلامی ورثہ تھی، 1992 میں ایک منظم انتہاپسند ہجوم نے شہید کر دی تھی، جس کے بعد بھارتی عدالت نے نہ صرف تمام ذمہ داران کو بری کر دیا بلکہ مسجد کی جگہ ہندو مندر کی تعمیر کی اجازت بھی دے دی۔
دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ بھارت میں ریاستی سطح پر اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو بےنقاب کرتا ہے اور ہندوقوم پرست نظریات کے تحت اسلامی تاریخی ورثے کو مٹانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارتی مسلمان سماجی، معاشی اور سیاسی میدانوں میں مسلسل محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں نہ صرف اسلاموفوبیا بڑھ رہا ہے بلکہ نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی اشتعال انگیزی بھی معمول بنتی جا رہی ہے، جس سے مسلمانوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
دفترِ خارجہ نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیئے کہ بھارتی مسلمانوں کے تحفظ اور اسلامی ورثے کے دفاع کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی برادری بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک، بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی اور عبادت گاہوں کی بےحرمتی کا سخت نوٹس لے۔
ترجمان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مسلمانوں اور دیگر مذہبی برادریوں کے حقوق کا احترام کرے، ان کے تحفظ کو یقینی بنائے اور عبادت گاہوں کی سلامتی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔