شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈکاسٹنگ کمپنی لمیٹڈ (SRBC)، جو اے ٹی وی کی آپریٹر کمپنی ہے، نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی نگرانی میں جاری لیکوڈیشن کے عمل کے تحت اس ماہ تمام ملازمین کو فارغ کر دیا جائے گا۔
24 نومبر 2025 کو جاری ہونے والے ایک باضابطہ دفتر حکم نامے میں کمپنی نے بتایا کہ عدالت کے احکامات کے مطابق 30 نومبر کی کاروباری سرگرمیوں کے اختتام تک ادارے کے تمام ملازمین کی خدمات ختم کرنا ضروری ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق مستقل اور کنٹریکٹ ملازمین سمیت ڈیپوٹیشن، عارضی عملے، ڈیلی ویجز اسٹاف، براڈکاسٹ ریسورس کانٹری بیوٹرز اور اضافی یا عارضی ذمہ داریاں سنبھالنے والے تمام افراد پر ہوگا۔ حکم نامے میں یہ وضاحت بھی شامل ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق ان تمام ملازمین پر بھی ہوگا جو اس وقت رخصت پر ہیں۔
ادارے کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق تمام ملازمین کو 28 نومبر تک اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے تحریری رپورٹ جمع کرانا ہوگی اور اپنے تمام جاری کاموں کی تکمیل کی تصدیق کرنی ہوگی۔ ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرکاری فائلیں، دستاویزات، لاگ اِن اسناد، آلات، میڈیا اسٹوریج ڈیوائسز اور دیگر سرکاری اشیاء متعلقہ فوکل پرسنز کے حوالے کریں۔ اس مقصد کے لیے ایڈمنسٹریشن، فنانس، انجینئرنگ، ٹیکنیکل اور اسٹیشن مینجمنٹ کے شعبوں میں فوکل پرسنز مقرر کیے گئے ہیں۔
ایس آر بی سی کے اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ جانے والے ملازمین کلیئرنس اسناد، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، قومی شناختی کارڈ کی نقول اور تازہ ترین رابطہ معلومات ایڈمنسٹریشن آفس میں جمع کرائیں۔ جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام مالی واجبات ، بشمول گریجویٹی (جہاں لاگو ہو)، لیو ان کیشمنٹ، بقایا تنخواہوں کے ایڈجسٹمنٹ اور دیگر جائز دعوے ، ایس آر بی سی کی سروس ریگولیشنز اور متعلقہ قوانین کے مطابق حساب کیے جائیں گے۔ ادائیگیاں لیکوڈیشن کے دوران دستیاب ہونے والے فنڈز اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی منظور کردہ ترجیحی فہرست کے تحت کی جائیں گی۔
کمپنی نے واضح کیا کہ ملازمین کی ملازمت کا خاتمہ کسی قسم کی محکمانہ یا تادیبی کارروائی نہیں بلکہ مکمل طور پر عدالت کی منظور شدہ تحلیل کے عمل کا حصہ ہے۔
اس حکم نامے پر دستخط محمد عاطف سعید نے خِلجی راحت وحید، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی جانب سے کیے، جو اس وقت عدالت کے مقرر کردہ لکوڈیٹرز کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
نوٹس کی نقول وزارت اطلاعات و نشریات، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن، پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کو بھی ارسال کی گئی ہیں اور ایس آر بی سی کے نوٹس بورڈ پر بھی آویزاں کر دی گئی ہیں۔