امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پیش رو، جو بائیڈن، کے دورِ صدارت میں جن ایگزیکٹو آرڈرز پر ’آٹو پین‘ یعنی مشینی استعمال سے دستخط ہوئے تھے، انہیں منسوخ کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر پوسٹ میں لکھا کہ ’جو بھی دستاویز ’سلیپی جو‘بائیڈن نے ’آٹو پین‘ سے دستخط کرائی، جو تقریباً 92 فیصد تھیں، اب منسوخ اور کالعدم قرار دی جاتی ہیں‘۔
ان کی دلیل ہے کہ ’آٹو پین‘ کے ذریعے دستخط قانونی طور پر غیر معتبر ہیں اور بائیڈن کو براہِ راست دستخط کرنا چاہیے تھے۔ اگر انہیں بعد میں یہ دعویٰ کرنا پڑا کہ انہوں نے خود ان آرڈرز کی توثیق کی تھی، تو وہ ’جھوٹی گواہی‘ کے مرتکب ہوں گے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے بائیڈن دور کے متعدد اقدامات مثلاً ماحولیاتی احکامات، امیگریشن اقدام، تعلیمی قرض معافی یا صحت سے متعلق پروگرامز پر اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ بہت سے قانونی دستاویزات ’آٹو پین‘ سے دستخط شدہ ہیں۔
تاہم امریکی قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ’آٹو پین‘ صدور کے دستخط کو تیز کرنے کا ایک روائتی اور قانونی طریقہ ہے اور گذشتہ صدارتی جو بائیڈن انتظامیہ میں اکثر استعمال ہوتا آیا ہے، اس لیے ٹرمپ کے اس اعلان کی قانونی جوازیت مشتبہ ہے۔
’آٹو پین‘ کیا ہے؟
’آٹوپین‘ ایک خودکار مشینی آلہ ہے جو کسی شخص کے دستخط کو عین اسی انداز میں خودکار طریقے سے تحریر کر سکتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد وقت بچانا اور بہت زیادہ سرکاری یا رسمی دستاویزات پر تیزی سے دستخط کرنا ہوتا ہے۔
’آٹو پین‘ میں پہلے کسی شخص کے اصل دستخط کا نمونہ مشین میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ پھر یہ مشین اسی اسٹروک، پریشر اور انداز کے ساتھ قلم کو حرکت دے کر دستخط تیار کرتی ہے۔ نتیجے میں بننے والے دستخط بالکل اصل جیسے ہوتے ہیں۔
آٹو پین کہاں استعمال ہوتا ہے؟
امریکی صدور اور اعلیٰ حکومتی شخصیات بھاری مقدار میں دستاویزات پر دستخط کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ مشہور شخصیات فین میل، تصویروں اور یادگاری اشیاء پر دستخط کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں۔ کارپوریٹ دفاتر میں بھی یہ طریقہ رسمی دستاویزات کے لیے رائج ہے۔
کئی ممالک (بشمول امریکہ) میں آٹو پین کے ذریعے کیے گئے دستخط قانونی طور پر قابلِ قبول سمجھے جاتے ہیں، بشرطیکہ شخص نے اس کے استعمال کی اجازت دی ہو۔ بعض صورتوں میں حساس یا اہم حکومتی دستاویزات کے لیے براہ راست دستخط لازمی ہوتے ہیں۔