پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی کے باعث طورخم بارڈر گزشتہ 50 روز سے ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند ہے، تاہم حکام کے مطابق اتوار کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بارڈر کھولے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ پاک افغان سرحد کی بندش سے دونوں جانب ہزاروں کارگو گاڑیاں پھنس چکی ہیں، کروڑوں کی سبزیاں، فروٹ، ٹماٹر خراب ہو چکے ہیں جبکہ علاقے میں بدترین صورتحال جنم لے چکی ہے۔
سرحدی انتظامیہ کے مطابق تجارتی راستہ بند ہونے سے امپورٹ، ایکسپورٹ اور ٹرانزٹ ٹریڈ پوری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بارڈر کے اطراف میں لمبی قطاروں کی صورت میں سینکڑوں ٹرک، ٹریلرز اور کنٹینرز کھڑے ہیں جن میں پھنسے ڈرائیورز سخت مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان، افغانستان کو روزمرہ استعمال کی اشیا سمیت سیمنٹ، ادویات، پھل اور سبزیاں برآمد کرتا ہے، جبکہ افغانستان سے کوئلہ، خشک میوہ جات اور تازہ پھل درآمد کیے جاتے ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں کی بندش سے دونوں ممالک کی مارکیٹوں میں اشیا کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔
کسٹم حکام کے مطابق طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان کے ساتھ یومیہ اوسطاً 85 کروڑ روپے کی دوطرفہ تجارت ہوتی ہے، جس کے رکے رہنے سے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔
دوسری جانب بارڈر پر پھنسے ڈرائیورز نے شکوہ کیا ہے کہ نہ کھانے پینے کا مناسب انتظام ہے اور نہ ہی آرام گاہیں موجود ہیں۔ ڈرائیورز کے مطابق متعدد افراد کے پاس خرچے کے پیسے بھی ختم ہوگئے ہیں جبکہ سخت سرد موسم کے باعث کئی ڈرائیورز بیمار پڑ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صورتِ حال دن بہ دن بگڑ رہی ہے اور حکام فوری ریلیف فراہم کریں۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ انسانی ہمدردی اور شدید زمینی حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے آج کچھ سرگرمیوں کی جزوی بحالی ممکن ہو سکے گی، تاہم مکمل کھلاؤ کا فیصلہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔