پاکستان نے 2025 اور 2030 کے درمیان ملک بھر میں 3,000 الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنوں کا ہدف مقرر کیا ہے جو پائیدار نقل و حرکت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت بلال کیانی نے کہا ہےکہ 2030 تک ملک بھر میں 3 ہزار الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے تاکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جا سکے۔
ان خیالات کا اظہار وزیرمملکت بلال کیانی نے سینیٹ اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران کیا، کہا کہ حکومت ملک میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs)کے فروغ کے لیے جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اجلاس کے دوران سینیٹر انوشہ رحمان نے پبلک سیکٹر انٹرپرائزز سے متعلق تفصیلی ریکارڈ اور جامع ڈیٹا بیس تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام کمپنیوں اور اداروں کی فہرست، ان کے منافع، سرمایہ کاری اور بانڈز و ڈگریز کی تفصیلات پارلیمنٹ کے ریکارڈ میں شامل کی جائیں۔
انوشہ رحمان کا مزید کہنا تھا کہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کا بڑا سرمایہ قرضوں کی ادائیگی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، اور آئندہ بجٹ میں ریونیو بڑھنے کی صورت میں ٹیکس میں کمی کا امکان بھی موجود ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 240 چارجنگ اسٹیشن مختص کیے ہیں۔ یہ نجی شعبے کی شراکت کے ذریعے قائم کیے جائیں گےجس کی نگرانی وزارت صنعت و پیداوار، نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (این ای سی اے)، وزارت توانائی (پاور ڈویژن)، نیپرا اور تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان ہوگی۔
یہ اقدام نئی انرجی وہیکل پالیسی کے مسودے کا حصہ ہے جسے وزارت صنعت و پیداوار نے تیار کیا ہے جس کا مقصد ملک بھر میں برقی نقل و حرکت کو اپنانے میں تیزی لانا ہے۔این ای ای سی اے کے مینڈیٹ کے تحت 24 اکتوبر 2024 کو الیکٹرک وہیکل چارجنگ انفراسٹرکچر (ای وی سی آئی ) اور بیٹری سویپنگ اسٹیشنز (بی ایس ایس) ریگولیشنز کے نوٹیفکیشن کے بعد سےوفاقی حکومت نے چارج کرنے کے لیے پہلے ہی 72 لائسنس جاری کیے ہیں۔